دواداکاراؤں کے خلاف کارروائی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی صف اول کی دو اداکاراؤں کے خلاف پولیس نے مبینہ طور پر ڈکیتی میں لوٹے گئے زیورات تحائف کی صورت میں وصول کرنے کے الزامات کے تحت تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ بات لاہور پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس چودھری شفقات احمد نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہی۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور پولیس نے دو ایسے ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری لے رکھی ہے اور اس کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ملزموں نے سو کے قریب وارداتوں کا انکشاف کیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ لوٹ کا سامان عیش و عشرت میں اڑا دیتے تھے۔ ایس ایس پی نے پاکستان فلم انڈسٹری کی صف اول کی دو اداکاراؤں کا نام لیکر کہا کہ دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان ان دونوں اداکاراؤں کو لوٹے گئے سامان اور نقدی بطور تحفہ دیتے تھے اور اسی لوٹ کی رقم سے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ بک کراتے تھے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ملزمان لوٹے ہوۓ طلائی اور جڑاؤ زیورات بھی ان دونوں اداکاراؤں کو دیتے رہے۔ چودھری شفقات احمدنے کہا کہ ایک اداکارہ نے ایک فلم ساز کے توسط سے پچاس ہزار روپے پولیس کو بھجوائے ہیں جو برآمدگی میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ سینئر پولیس افسر نے کہا کہ انہوں نے یہ تفتیشی افسران کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ان دونوں اداکاراؤں کے خلاف چالان مرتب کرکے عدالت کو بھجوائیں تاکہ عوام کے ان کے اس چہرے کو بھی دیکھ سکیں جو ان کے فلم کے پردے کے پیچھے ہے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت جانتے بجھتے ہوۓ مسروقہ مال لینا یا خریدنا قانوناً جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہوسکتی ہے۔ یہ دونوں اداکارائیں فلموں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور بطور ہیروئن ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر ہٹ بھی ہوچکی ہیں۔ پاکستانی فلمی صنعت کی بعض شخصیات نے ان پر عائد کیے جانے والے الزمات کی تردید کی ہے اور کہا ہےکہ کسی اداکارہ نے کسی ڈاکو سے مسروقہ مال لیا نہ ہی کسی قسم کی برامدگی کروائی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||