عالمی بازار حصص میں عدم استحکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کساد بازاری کے خدشات اور جمعرات کو نیویارک کے بازار حصص میں بڑے نقصانات کے بعد جمعہ کو دنیا کے دیگر بڑے حصص بازاروں میں بھی عدم استحکام دیکھنے میں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان توقعات کے بعد کہ صدر بُش امریکی معیشت میں بہتری کے لیے اقدامات کرنے والے ہیں، حصص میں ٹھہراؤ آ جائے گا۔ جمعہ کی صبح لندن کے بازار حصص میں فُٹسی ہنڈرڈ کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن جلد ہی اس میں بہتری آ گئی، تاہم فرانس اور جرمنی کے بازاروں میں سست روی دیکھنے میں آئی۔ جمعہ کو جاپان میں نِکّی 225 انڈیکس میں آغاز میں تین فیصد کی کمی ہوئی لیکن بعد میں یہ اعشاریہ چھ فیصد کے اضافے پر بند ہوا۔ نِکی 13861 پر بند ہوا اور اسی طرح ہانگ کانگ میں ہانگ سینگ انڈیکس بھی ابتدائی نقصان پورا کرنے میں کامیاب رہا اور دن کے اختتام پر اعشاریہ چار فیصد کے اضافے پر بند ہوا۔ لندن، ٹوکیو اور ہانگ کانگ کے برعکس انڈیا کے سینسیکس انڈیکس میں تین اعشاریہ پانچ فیصد کی کمی ہوئی جو دن کے اختتام تک برقرار رہی۔ امدادی پیکج مصنوعات کے اعداد وشمار میں کمزوری اور مشہور بنک میرل لِنچ کو شدید نقصانات پہنچنے کی وجہ سے جمعرات کو امریکہ کے مرکزی انڈیکس ڈاؤ جونز میں دو اعشاریہ چار چھ فیصد کی کمی ہو گئی تھی۔ امریکی بازار حصص میں یہ مندی اس کے باوجود یکھنے میں آئی ہے کہ فیڈرل ریزرو کے سربراہ بین برنانکے اشارہ دے چکے ہیں کہ معیشت میں بہرتی کے لیے جلد ہی شرح سود میں کمی ہونے والی ہے۔ واضح رہے کہ جمعرات کو میرل لِنچ نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سہ ماہی نقصانات کا اعلان کیا ہے۔ ’قلیل مدتی منصوبہ‘
اس بارے میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر ’امریکی عوام کو بتائیں گے کہ وہ بھی متفق ہیں کہ ان حالات سے نکلنے کے لیے کچھ قلیل مدتی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔‘ فیڈرل ریزروو کے چئرمین بین برنانکے نے بھی معیشت کو سنبھالنے کے لیے صدر بُش کے قلیل مدتی ہنگامی اقدامات کی حمایت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی بجٹ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے چئرمین کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی جیسے اقدامات جلد ہی کیے جانے چاہئیں تا کہ جلد از جلد اس صورتحال سے نمٹا جا سکے۔’اگر معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات میں بہت دیر ہو جائے تو ان سے قلیل مدت میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور اسی طرح اگر معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو تو اس قسم کے اقدامات معیشت میں استحکام کے لیے بُرے ہوتے ہیں۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بازار حصص کے لوگ صدر بُش کے خطاب کو بہت دلچسپی سے سنیں گے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں معلوم نہیں کہ صدر بش جس ہنگامی پیکج کا اعلان کرنے جا رہے ہیں وہ کافی ہوگا یا نہیں، لیکن لوگوں کی دلچسپی یہ جاننے میں ضرور ہے کہ امریکہ کی معیشت میں حالیہ سُستی کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔‘ | اسی بارے میں عالمی منڈی میں تیز مندی 22 October, 2007 | آس پاس ایشیائی حصص میں ایک بار پھر کمی29 August, 2007 | آس پاس عالمی منڈی بحرانی کیفیت میں18 August, 2007 | آس پاس امریکی، یورپی بازار حصص میں بہتری 17 August, 2007 | آس پاس مندی کا رحجان، بینک میدان میں17 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||