BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ کی سلطنت رو بہ زوال‘
گزشتہ بارہ ماہ کے دوران ڈالر کے نرخوں میں یورو اور دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں خاصی کمزوری آئی ہے
ونزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ڈالر کی جو حالت رہی ہے اس سے ظاہر ہے کہ ’امریکی سلطنت‘ رو بہ زوال ہے۔

شاویز اوپک اجلاس کے بعد سے ایران کے دورے پر ہیں۔ اوپک اجلاس کے اختتام پر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے بطی ڈالر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ڈالر کاغذ کے بہ مصرف ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے قبل انہوں نے تیل کا لین دین ڈالر میں نے کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔


عالمی مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر یورو اور ین کے مقابلے میں مسلسل کمی کا شکار رہا جس کے نتیجے میں امریکہ کے معاشی استحکام کے بارے میں تشویش برقرار رہی۔

نیو یارک میں پیر کی شام تک ڈالر میں یورو کے مقابل ایک اعشاریہ چار چھ پانچ نو ڈالر کی کمی آئی جب کہ ین کے مقابل یہ کمی ایک سو دس اعشاریہ صفر چار تھی۔

اسی سال نومبر کے اوائل میں یورو کے مقابل ڈالر میں ایک اعشاریہ چار سات پانچ دو کی ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی اس لیے بھی آئی ہے کہ گزشتہ جمعہ کو امریکی معیشت کے بارے میں اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

ان اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امرییک بنکوں کو مورگیج کے خراب قرضوں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ جنوری کے بعد سے صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال میں امریکہ کو شود کی شرح میں کمی لانی ہو گی۔

ڈالر کی بے قدری
یورو کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ریکارڈ کمی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد