ڈالر صرف کاغذ کا بے مصرف ٹکڑا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر محمود احمد نژاد نے اوپک اجلاس میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ تیل کی خرید و فروخت امریکی ڈالر میں ختم کر دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کرنسی کاغذ کے بے مصرف ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں۔ ایرانی صدر نے یہ اپیل اجلاس کے اختتام پر کی لیکن امریکہ کے حامی سعودی عرب نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ اجلاس کے اعلامیے میں ڈالر کا ذکر سرسری کیا گیا ہے جب کہ جب کے توانائی کے تحفظ اوفر ماحولیات کے معاملات پر توجہ زیادہ دی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران اوپک ارکان نے تیل کے مستقبل کے رخ کے بارے میں اپنے اختلافات دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دنیا کو تیل قابلِ اعتماد فراہمی جاری رہے گی۔ اجلاس کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ تمام ارکان ڈالر کی قیمت میں آنے والی حالیہ مندی پر ناخوش تھے۔ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران ڈالر کے نرخوں میں یورو اور دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں خاصی کمزوری آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اوپک ممالک کی آمدنیوں پر بھی اثر پڑا ہے کیونکہ تیل کی خرید و فروخت اور قیمتیں امرییک ڈالر میں مقرر کی جاتی ہیں۔ | اسی بارے میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رججان 18 January, 2006 | آس پاس اوپیک معاہدہ: قیمتوں میں کمی03 June, 2004 | آس پاس تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 June, 2004 | آس پاس تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ25 May, 2004 | آس پاس اوپیک فیصلہ نہیں کر سکا22 May, 2004 | آس پاس سپلائی بڑھائیں: عالمی مطالبہ21 May, 2004 | آس پاس ایران: چالیس کروڑ ڈالر کی امداد30 December, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||