اوپیک معاہدہ: قیمتوں میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے تیل کی پیداوار بڑھانے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ اوپیک کے ممبران نے جن میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں یہ فیصلہ کیا ہے کہ پہلی جولائی سے تیل کی پیداوار میں دو ملین بیرل یومیہ کا اضافہ کر دیا جائے گا اور اس کے بعد پہلی اگست سے یہ اضافہ 500,000 بیرل یومیہ ہو جائے گا۔ بیروت میں ہونے والا معاہدہ ویسا نہیں ہے جس طرح کی امید کی جا رہی تھی تاہم پھر بھی معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں 1.26 ڈالر گر کر 38.70 ڈالر پر آ گئی ہیں۔ برطانیہ کے وزیرِ خزانہ گورڈن براؤن نے اوپیک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پھر بھی ’ہم مزید پیداوار کا مطالبہ کرتے رہیں گے‘۔ امریکہ کے وزیرِ خزانہ جون سنو نے پیداوار بڑھانے کے اوپیک کے فیصلے کو حوصلہ افزا کہا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں سعودی عرب میں حملوں کے بعد بہت زیادہ اضافہ ہوا لیکن اوپیک کا کہنا ہے کہ رسد میں کمی کے بجائے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ اوپیک کے بعض ارکان جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں پہلے سے ہی کوشش کر رہے ہیں کہ تیل کی پیدوار میں اضافہ کیا جائے۔ ہفتے کو سعودی عرب کے شہر الخبر میں شدت پسندوں کے ایک حملے کے بعد تیل کی قیمت 42.45 بیرل فی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم بدھ کو سعودی عرب کے اس اعلان کے بعد کہ وہ تیل کی پیداور بڑھائے گا اس قیمت میں 2.37 ڈالر کی کمی ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||