| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیرِ تیل حملے میں بچ گئے
عراقی حکام کے مطابق عراق کے وزیرِ تیل ابراہیم بحر العلوم اتوار کے روز بغداد میں ہونے والے ایک حملے میں بچ نکلے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی نامزد عبوری انتظامیہ کے ایک رکن اور تیل کے وزیر پانچ گاڑیوں کے ایک قافلے میں سفر کر رہے تھے جب ان کے قریب سے گزرنے والی ایک گاڑی میں سے تین مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ گاڑی میں ان کے ہمراہ عبوری انتظامیہ کے ایک اور اہم رکن احمد چلابی کے ساتھی نبیل الموسوی بھی سفر کر رہے تھے۔ یہ واقعہ بغداد میں عبوری انتظامیہ کے زیرِ استعمال ایک ہوٹل پر ہونے والے کار بم حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد پیش آیا تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ امریکی قیادت میں چلنے والی عبوری انتظامیہ کے ایک ترجمان چارلس ہیٹلی نے بتایا کہ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عراق میں امریکی افواج پر حملے جاری ہیں اور پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات مں دو امریکی فوجی ملک کے شمال میں ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے ایک فوجی تکریت میں راکٹ کے ذریعے داغے گئے گرینیڈ حملے میں ہلاک ہوا ہے جبکہ بیجی کے علاقے میں بارودی سرنگ کی زد میں آجانے والی ایک فوجی گاڑی میں سفر کرنے والا ایک امریکی فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ اس وقت عراق میں امریکی قیادت میں کام کرنے والی افواج کو ایک دن میں اوسطاً بیس حملوں کا سامنا ہے۔ یکم مئی کو صدر بش کے عراق میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اب چھیانوے ہو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||