’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارۂ صحت کے ایک سنئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ برڈ فلو کے حالیہ کیسز ترکی میں ہوئے ہیں اس بیماری کے ایشیاء میں پھیلنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ ڈاکٹر شگیرو اومی نے یہ بات برڈ فلو کی روک تھام کے حوالے سے ٹوکیو میں جمعرات سے شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس سے پہلے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس کانفرنس میں ایشیا کے بیشتر ملکوں سے وزراء اور صحتِ عامہ کے اہلکار شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں اس بات پر غور کیا جا ئے گا کہ برڈ فلو کی وبا سے نمٹنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ ادھر اقوام متحدہ نے برڈ فلو سے نمٹنے کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی اپیل کی ہے۔ برڈ فلو پر اقوام متحدہ کے رابطہ کار نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ماہ کی سترہ تاریخ سے بیجینگ میں شروع ہونے والی دو روزہ عالمی کانفرنس میں امدادی ممالک یہ رقم دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اقوام متحدہ کے رابطہ کار کا کہنا تھا کہ ترکی کی صورتحال سے یہ پتہ چلا ہے کہ برڈ فلو کو روکنے کا سب سے مناسب طریقہ اس بیماری کے بارے میں عوامی آگاہی اور حکام کی جانب سے فوری اقدامات ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نبیرو کا کہنا تھا کہ ترکی میں حکام نے سخت اور بڑے پیمانے پر اقدامات کر کے صورتحال پر بڑی حد تک قابو پایا ہے لیکن اب بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔ دنیا بھر میں برڈ فلو سے اب تک ستر سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ڈاکٹر نبیرو کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق اس بیماری کےانسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے کوئی شوائد نہیں ملیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برڈ فلو پر قابو پانے کے پروگرام کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم پرندوں میں ٹیکے لگانے کی مہم، جانوروں کے ڈاکٹروں کی تربیت اور اس تیاری پر خرچ کی جائے گی کہ اگر یہ بیماری انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہوکر وبائی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے کیسے نمٹا جائے۔ | اسی بارے میں برڈ فلو وائرس : ترکی میں 14 متاثر10 January, 2006 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری09 January, 2006 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو کے مزید مریض08 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||