BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 January, 2006, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی میں برڈ فلو کے مزید مریض
پرندے
جنوب مشرقی ایشیا سے باہر منظرعام پر آنے والا ترکی میں برڈ فلو کا یہ تیسرا کیس ہے
عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے ترجمان نے کہا ہے کہ ترکی کے مشرقی حصے میں دو بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے جن میں برڈ فلو کا خطرناک وائرس ایچ 5 این 1 پایا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق بچوں کی عمریں پانچ اور آٹھ برس ہیں۔

اسی ہفتے مشرقی شہر ڈوگوبیازت میں تین بچے ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے کم از کم دو میں برڈ فلو وائرس پایا گیا تھا۔

علاقے کے رہائشی پریشانی کے عالم میں مقامی ہسپتال کے چکر لگا رہے ہیں تاکہ برڈ فلو کی علامات کا علاج کروایا جا سکے۔

تاہم اس بات کی کوئی نشاندہی نہیں ہوئی ہے کہ یہ بیماری انسانوں میں پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔

برڈ فلو عرف عام میں پرندوں یا مرغیوں سے انسانوں میں پھیلنے والی مہلک بیماری کو کہا جاتا ہے۔

ترک اہلکاروں نے احتیاط کے طور پر بارہ ہزار پرندوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں مرغیاں، ٹرکیز اور دوسرے پرندے شامل ہیں۔

ڈوگوبیازت میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق علاقے کے لوگوں میں اتنا خوف اور غصہ ہے کہ انہوں نے خود ہی بیماری سے بچاؤ کے کسی قسم کے کپڑوں کے بغیر پولٹری کے جانوروں کو مارنا شروع کر دیا ہے۔

برڈ فلو سے ہلاکتیں
برڈ فلو سے ہلاک ہونے والے بچوں کو دفنانے کے لیے لے جایا جا رہا ہے

ان کیسوں کے منظرعام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ براعظم ایشیا سے باہر اس مرض یعنی ایچ 5 این 1 کے وائرس انسانی جسم میں پائے جائے گئے ہیں۔

چودہ سالہ لڑکا محمد علی اور اس کی پندرہ اور گیارہ سالہ بہنیں فاطمہ اور ہلیا اس ہفتے انتقال کر گئی تھیں۔

ان کا خاندان گھر میں ہی پولٹری پالتا تھا۔ تینوں بچوں کو تیز بخار، کھانسی اور گلے سے خون آنا شروع ہو گیا تھا۔

ترکی میں محکہ صحت کے ماہرین اس وائرس کے پھیلاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم سرکاری سطح پر پرندوں میں اس قسم کے وائرس کے پائے جانے کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

انقرہ کی حیسٹیپی یونی ورسٹی کے مورت اکووا کا کہنا ہے کہ جانوروں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے لیکن آبادی کی سطح پر ابھی اس بیماری کے خلاف ٹیکے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

برڈ فلو یا ایچ 5 این 1 کے نام سے یہ وائرس ترکی کے ساتھ روس، رومانیہ اور کروشیا میں بھی سامنے آیا ہے۔

ایشیا سے آنے والے پرندے براستہ ترکی مغرب کی طرف جاتے ہیں۔ ان پرندوں کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ اپنے ساتھ اس مرض کا وائرس بھی یہاں پھیلا رہے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس مرض کا وائرس انہی لوگوں میں پایا گیا ہے جو پرندوں کے ساتھ رہتے ہیں لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ یہ مرض باقی آبادی میں انفلوئنزا کی طرح بڑی آسانی سے جڑیں پکڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'
17 October, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد