چین: برڈ فلو سے بچاؤ کے اقدامات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے مغربی صوبے کِنگائی میں برڈ فلو سے متاثرہ مردہ ہنس ملنے کے بعد وہاں برڈ فلو سے بچاؤ کے تیس لاکھ ٹیکے بھیجے ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار چائنہ ڈیلی کے مطابق یہ ٹیکہ پورے صوبے کے پولٹری فارموں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سینچر کے روز چین نے اس وبا پر قابو کے لیے ملک گیر سطح پر ہنگامی اقدامات کا حکم دیا تھا۔ برڈ فلو کے وائرس سے 2003 سے اب تک جنوب مشرقی ایشیا میں 53 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مغربی صوبے کنگائی میں مردہ پائے جانے والے پرندے برڈ فلو وائرس کے متاثرہ تھے۔ انسانوں میں ابتدائی طور پر یہ بیماری پہلی مرتبہ 1997 میں ہانگ کانگ میں دیکھنے میں آئی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس متاثرہ افراد کو پرندوں سے ملا تھا۔ انسان سے انسان کو وائرس لگنے کے بہت کم واقعات سامنے آئے تھے اور ان کی تصدیق بھی نہیں ہو سکی تھی۔ چین میں برڈ فلو کا تازہ ترین واقعہ گزشتہ جولائی میں منظر عام پر آیا تھا تاہم چین میں انسانوں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ 2003 میں جنوب مشرقی ایشیا کے آٹھ ممالک بشمول ویتنام ، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں برڈ فلو کے H5N1 نامی قسم کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس سے لوگوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ عالمی تنظیمِ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ وائرس آسانی سے انسانوں میں پھیلنا شروع ہو گیا تو اس سے وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||