| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ’برڈ فلو‘ کی تصدیق
پاکستان میں حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ کراچی میں چند ہفتوں سے مرغیوں میں پھیلنے والی بیماری ’ایوئین انفلوئنزا‘ ہے۔ سندھ کے لائیو سٹاک کے وزیر منظور پہنور کا کہنا ہے کہ صوبۂ سندھ میں مرغیوں کی پچیس فیصد تعداد تک یہ بیماری پھیل چکی ہے۔ سرکاری حکام اور متعلقہ ماہرین نے اس سلسلے میں مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو کسی بھی ملک کی انفرادی کوششوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا اور اس معاملے سے سنجیدگی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں مرغیوں کی افزائش سے متعلق صوبۂ سندھ کے تحقیقاتی ادارے ’پولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ کے ریسرچ آفیسر اسلم جلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں اب اس بیماری پر قابو پالیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ بیماری نومبر میں آئی تھی۔ اب اس پر قابو پالیا گیا ہے۔ اگر آپ مرغی کو پکا لیں یا انڈے کو ابال لیں تو یہ کوئی ایسی بیماری نہیں جو انسانوں میں منتقل ہوسکے۔ اس کا کوئی امکان نہیں اب یہ معاملہ محفوظ ہے۔‘ منظور پہنور کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس بیماری کے سدباب کے لیے پولٹری فارمز کو حفاظتی ٹیکے اور ادویہ بھی فراہم کی تھیں جن کے ذریعے ہی اس بیماری پر قابو پایا گیا۔‘ تاہم ادارے کے حکام کا کہنا تھا کہ اس بیماری کے نتیجے میں نومبر سے اب تک کم از کم پندرہ لاکھ مرغیاں ہلاک ہوچکی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب ان بیمار مرغیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ پولٹری فارم کے مالکان کو بھیجے گئے ایک سرکاری سرکیولر (ہدایت نامے) میں کہا گیا ہے کہ ’اب اس بیماری سے نمٹنے کے لئے ان تمام مرغیوں کی ہلاکت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘ تاہم پاکستان پولٹری فارم ایسوسی ایشن اس ہدایت پر خوش نہیں آتی۔ ایسوسی ایشن کے کنوینر عبدالمعروف صدیقی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ مسئلہ پیدا ہوا تھا، جس طرح انسانوں میں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں نزلہ بخار وغیرہ۔ ایک دفعہ آتا ہے اور آکر چلا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک وائرل پرابلم (وبائی مرض) تھا۔ نامعلوم سا۔ یہ شروع ہوا، چالیس پینتالیس لاکھ مرغیاں ہلاک ہوئیں اور اس کے بعد یہ مرض خود بخود ختم ہوگیا۔ اس سے ستّر سے اسّی کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’وائرس اچانک ہی آتا ہے اور اچانک ہی چلاجاتا ہے۔‘ لیکن پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے اس مرض کی تشخیص کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ مسئلہ دوسرے ممالک میں پیدا ہورہا ہے۔ وائرس سے بظاہر تو کوئی خطرہ نہیں لگ رہا مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس مرض کی تشخیص کے لیے کو مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ اگر اس مرض کی تصدیق ہوجائے تو کچھ کہا جاسکتا ہے۔‘ ایک سوال پر ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا ’بیماری کو روکنے کے لیے ٹیکہ ہوتا ہے مگر وہ تب لگایا جاتا ہے جب مرغی بیمار نہ ہو بلکہ مکمل صحت مند ہو۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر بیمار مرغیوں کو ٹیکہ لگایا جارہا ہے تو یہ بیوقوفی ہے کیونکہ اس کا کوئی اثر نہیں۔ ان مرغیوں کو ہلاک کردینا چاہیے جو اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ٹیکہ بیماری سے تحفظ کے لیے ہوتا ہے، علاج کے لیے نہیں۔اگر مرغیوں کو ٹیکہ لگایا بھی گیا تو یہ محض پیسے کا زیاں ہی ہوگا۔‘ لیکن پولٹری ایسی ایشن کے کنوینر عبدالمعروف صدیقی مختلف رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ’حکومت کے پاس وہ انسانی یا تکنیکی مہارت ہی نہیں جس سے اس بیماری کی صحیح شناخت کی جاسکے۔‘ پاکستان میں ’برڈ فلو‘ کی جس قسم کی شناخت ہوئی ہے وہ ویت نام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں پائی جانے والی اقسام سے مختلف ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جانی والی قسم ’ایچ فائیو این ون‘ ہے اور وہ پاکستان میں شناخت ہونے والی ’ایچ سیون‘ اور ایچ نائن‘ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اب تک اس بیماری سے تھائی لینڈ میں ایک اور ویت نام میں چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایشیائی ممالک میں پھیلنے والی مرغیوں کی اس بیماری نے بنی نوع انسان کو شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ادارے کے ایک ترجمان پیٹر کارڈنگلے نے کہا کہ یہ بیماری اب ایک ایسی سنگین شکل اختیار کرچکی ہے کہ اس معاملے کو اس بیماری سے متاثر ہونے والے ممالک کی انفرادی کوششوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یہ اندازے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے اور انسانیت کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||