ترکی: دو افراد برڈ فلو سے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے مشرقی حصے میں دو افراد برڈ فلو کے وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا سے باہر منظرعام پر آنے والا ترکی میں یہ دوسرا کیس ہے۔ برڈ فلو عرف عام میں پرندوں یا مرغیوں سے انسانوں میں پھیلنے والی مہلک بیماری کو کہا جاتا ہے۔ ملک کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے مرنے والے ایک چودہ سالہ لڑکے میں اس مرض کے وائرس پائے گئے تاہم اس لڑکے کی ابتدائی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ اس کی موت برڈ فلو وائرس کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ اس لڑکے کی بہن بھی جمعرات کو ہلاک ہوگئی، اس کے ٹیسٹوں کے مطابق اس کے جسم میں برڈ فلو کا وائرس پایا گیا۔ ان کیسوں کے منظرعام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ براعظم ایشیا سے باہر اس مرض یعنی ایچ 5 این 1 کے وائرس انسانی جسم میں پائے جائے گئے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا ہوکر مرنے والا لڑکا محمد علی اتوار کو مشرقی ترکی کےوین شہر میں ہلاک ہو گیا تھا۔ مرنے والا لڑکا، اس کے بھائی اور بہنیں ایران کی سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں میں مرغی خانے میں کام کرتے تھے۔ وزیرصحت ریسیپ اکداگ کا کہنا ہے کہ مرنے والا خاندان اپنے گھر میں پالی جانے والی مرغیوں سے لگنے والے وائرس سے ہلاک ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں دو کیس کےلیبارٹری میں تجزیے کے بعد مثبت ہونے کی تصدیق کی جاچکی ہے یعنی مریضوں کے جسموں میں اس بیماری کا وائرس موجود پایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک اور کیس کے بارے میں ہمیں شبہ ہے کہ وہ بھی کہیں مثبت نہ ہو تاہم ہم نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے اور کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے‘۔ ترکی کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ خاندان سے حاصل خون کے نمونوں کے علیحٰدہ تجزیے ترکی کی دو لیبارٹریوں میں کیے گئے اور اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ انہیں برڈ فلو وائرس گھر میں پالی جانے والی مرغیوں سے لگا۔ انقرہ کی حیسٹیپی یونی ورسٹی کے مورت اکووا کا کہنا ہے کہ جانوروں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے لیکن آبادی کی سطح پر ابھی اس بیماری کے خلاف ٹیکے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایچ 5 این 1 کے نام سے یہ وائرس ترکی کے ساتھ روس، رومانیہ اور کروشیا میں بھی سامنے آیا ہے۔ ایشیا سے آنے والے پرندے براستہ ترکی مغرب کی طرف جاتے ہیں۔ ان پرندوں کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ اپنے ساتھ اس مرض کا وائرس بھی یہاں پھیلا رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس مرض کا وائرس انہی لوگوں میں پایا گیا ہے جو پرندوں کے ساتھ رہتے ہیں لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ یہ مرض باقی آبادی میں انفلوئنزا کی طرح بڑی آسانی سے جڑیں پکڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں چین: برڈ فلو سے بچاؤ کے اقدامات23 May, 2005 | آس پاس برڈ فلو ماہرین کی وارننگ04 July, 2005 | آس پاس انڈونیشیا: برڈ فلو پھیلنے کا خدشہ29 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||