انڈونیشیا: برڈ فلو پھیلنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی حکومت نے برڈ فلو سے انسانوں کے مرنے کی تصدیق کے باوجود کہا ہے کہ وہ ملک کی ساری پولٹری ختم نہیں کرے گا کیونکہ وہ کاشتکاروں کو اتنا بڑا معاوضہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انڈونیشیا نے برڈ فلو سے کم از کم تین لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ برڈ فلو کے پھیلنے کے لیے مخصوص جگہوں پر پولڑی کوختم کریں گے لیکن پورے ملک وہ مرغیوں کو ختم نہیں کریں گے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے ادارے براے زراعت و خوراک کا مشورہ ہے کہ جس ملک میں برڈ فلو پھیلانے کے امکانات ہوں تو وہاں تمام پولڑی کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق ویت نام میں بھی برڈ فلو سے دو اشخاص کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں ایک امریکی سائنسدانوں نے کہا تھا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ برڈ فلو کی بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگ سکتی ہے اور یہ وبا کی طرح پھیل سکتی ہے اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ 1968 فلو وبا کی طرح بھی ہو سکتی ہے جس میں دس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ 1918 میں برڈ فلو کی وجہ سے آنے والی وبا میں پانچ کرورڑ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ ٰ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||