برڈ فلو ماہرین کی وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنس دانوں نے اپیل کی ہے کہ برڈ فلو کو دنیا بھر میں پھیلنے سے روکنے کے لئےبڑے پیمانے پر ٹیکے لگائے جانے چاہئیں۔ یہ اپیل ملائیشیا میں اس وائرس پر شروع ہونے والی تین روزہ کانفرنس میں کی گئی ہے۔اس وائرس سے ایشیا میں اب تک کم از کم 55 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سائنس دانوں نے دولت مند ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس وائرس سے لڑنے والے ملکوں کی امداد کریں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ وبا عالمی سطح تک پھیل سکتی ہے۔ عالمی تنظیم صحت کے مطابق مشرقی ایشیا کے ممالک پولٹری اور جنگلی پرندوں میں اس وبا کو روکنے کے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ لیکن تنظیم کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے فنڈز کے بغیر وہ اس ضمن میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ تنظیم کے علاقائی ترجمان پیٹر کورڈنگلی کا کہنا ہے کہ انسانوں میں یہ فلو دو سال قبل پھیلنے والے سارس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ دریں اثناء ملائیشیا میں انسانوں اور جانوروں کی صحت سے متعلق اس کانفرنس میں ماہرین ایشیا کی منڈیوں اور فارم ہاؤسس کو محفوظ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان ہی جگہوں سے یہ وائرس پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اگر وہ برڈ فلو کو کچھ دیر تک انسانوں میں پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے تو اس سے دنیا کو اس وائرس سے لڑنے کے لئے وقت مل جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||