BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 January, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری
برڈ فلو کفن
ترکی میں برڈ فلو سے دو ہلاک ہونے بچے کو میت کو دفنانے کے لیے جایا رہا ہے۔
ترکی میں برڈ فلو کے پانچ نئے مریضوں کے سامنے آنے کے بعد برڈ فلو کے عالمی ماہرین مشرقی ترقی پہنچ گئے۔

ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا برڈ فلو کا وائرس جسے ایچ فائیو این ون بھی کہا جاتا ہے، کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ترکی میں دو بچے برڈ فلو سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ نو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب مشرق بعید کے ممالک سے باہر کوئی برڈ فلو سے ہلاک ہوا ہو۔

ترکی کے حکام اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ برڈ فلو ایک وباء کی ماند پھیل رہا ہے۔

سائنسدان خبر دار کرتے آئے ہیں کہ برڈز فلو ایک انتہائی خطرناک وبا بن سکتی ہے جس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ بیماری جانوروں سے انسانوں کو لگتی رہی ہے لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ برڈ فلو انسان سے انسان کو بھی لگ سکتی ہے۔

انقرہ میں ڈاکٹروں نے ابتدائی ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ان کے خیال میں وہاں لائے گئے تین افراد برڈ فلو کے مہلک وائرس سے متاثر ہیں۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ تقریباً افراتفری کا عالم ہے اور ہسپتالوں میں لوگوں کا ہجوم ہے جو یہ شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

نامہ نگار کے مطابق مقامی حکام برڈ وائرس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرغیوں کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی مرغیاں خود ہلاک کر دیں اور انہیں زمین میں دبا دیں۔
ا
نقرہ میں جو لوگ برڈ فلو کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک قصبے کے رہائشی ہیں۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو وائرس کیسے لگ گیا البتہ یہ اطلاعات ہیں کہ جہاں سے ان لوگوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے وہاں بطخوں کو برڈ فلو تھا۔
رک اہلکاروں نے احتیاط کے طور پر بارہ ہزار پرندوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں مرغیاں، ٹرکیز اور دوسرے پرندے شامل ہیں۔
ڈوگوبیازت میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق علاقے کے لوگوں میں اتنا خوف اور غصہ ہے کہ انہوں نے خود ہی بیماری سے بچاؤ کے کسی قسم کے کپڑوں کے بغیر پولٹری کے جانوروں کو مارنا شروع کر دیا ہے۔
۔
برڈ فلو یا ایچ 5 این 1 کے نام سے یہ وائرس ترکی کے ساتھ روس، رومانیہ اور کروشیا میں بھی سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں
برڈفلو: سوال وجواب
15 October, 2005 | نیٹ سائنس
'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'
17 October, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد