ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں برڈ فلو کے پانچ نئے مریضوں کے سامنے آنے کے بعد برڈ فلو کے عالمی ماہرین مشرقی ترقی پہنچ گئے۔ ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا برڈ فلو کا وائرس جسے ایچ فائیو این ون بھی کہا جاتا ہے، کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ترکی میں دو بچے برڈ فلو سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ نو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب مشرق بعید کے ممالک سے باہر کوئی برڈ فلو سے ہلاک ہوا ہو۔ ترکی کے حکام اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ برڈ فلو ایک وباء کی ماند پھیل رہا ہے۔ سائنسدان خبر دار کرتے آئے ہیں کہ برڈز فلو ایک انتہائی خطرناک وبا بن سکتی ہے جس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ابھی تک یہ بیماری جانوروں سے انسانوں کو لگتی رہی ہے لیکن سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ برڈ فلو انسان سے انسان کو بھی لگ سکتی ہے۔ انقرہ میں ڈاکٹروں نے ابتدائی ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ان کے خیال میں وہاں لائے گئے تین افراد برڈ فلو کے مہلک وائرس سے متاثر ہیں۔ ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ تقریباً افراتفری کا عالم ہے اور ہسپتالوں میں لوگوں کا ہجوم ہے جو یہ شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ نامہ نگار کے مطابق مقامی حکام برڈ وائرس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرغیوں کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی مرغیاں خود ہلاک کر دیں اور انہیں زمین میں دبا دیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو وائرس کیسے لگ گیا البتہ یہ اطلاعات ہیں کہ جہاں سے ان لوگوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے وہاں بطخوں کو برڈ فلو تھا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||