’پچیس ارب ڈالر مزید چاہئیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کانگریس سے عراق اور افغانستان میں جاری فوجی آپریش کے لیے پچیس ارب کی اضافی رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پچیس ارب ڈالر کی رقم ہنگامی فنڈ کے طور پر مانگ رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان اور عراق میں تشدد کے بڑھ جانے سے اضافی رقم مہیا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس کے علاوہ مزید رقم مہیا کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔
اس سے پہلے بش انتظامیہ کے ارکان نے کہا تھا کہ وہ اس سال عراق اور افغانستان میں جاری کارروائیوں کے لیے اضافی رقم کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مستقبل کی ضروریات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بُش انتظامیہ کی طرف سے اضافی رقم طلب نہ کرنے پر بُش کے سیاسی مخالفین میں شکوک و شبہات پائے جاتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ یہ تاخیری ہتھکنڈ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کی وجہ سے استعمال کئے جارہے ہی اور بش انتظامیہ انتخابات کے ہوجانے کا انتظار کر رہی ہے۔ پچیس ارب ڈالر کا مطالبہ ایک بار پھر بش انتظامیہ پر سیاسی تنقید کا باعث بنے گا۔
عراق اور افغانستان میں جاری امریکی فوج کی کارروائی پہلےہی امریکی ٹیکس دینے والوں پر ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بوجھ ڈال چکی ہے۔ عراق میں حالیہ دنوں میں ہونے والی کارروائیوں کے باعث امریکی وزارت دفاع پینٹاگن بیس ہزار امریکی فوجیوں کو مزید کچھ عرصے کے لیے عراق میں رکھنا چاہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||