جان لیوا برڈ فلو افریقہ میں بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارہ صحت کے مطابق برڈ فلو کا خطرناک وائرس افریقہ تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں شمالی نائجیریا کے پولٹری فارم میں یہ وائرس دریافت کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ یہ بیماری افریقہ میں بھی پائی گئی ہے۔ افریقہ میں دریافت ہونے والا برڈفلو وائرس ایچ فائیو این ون ہے جو کہ انسانوں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے متاثرہ علاقے میں حفاظتی انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ یہ علاقہ دیگر علاقوں سے الگ تھلگ کردیا گیا ہے تاکہ مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ہمسایہ ریست کانو میں ہزاروں مرغیوں کی ہلاکت کی وجہ بھی برڈ فلو ہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے اس بیماری کے پھیلنے کا سب سے زیادہ خطرہ ایشیاء میں ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ نے برڈ فلو سے نمٹنے کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی اپیل بھی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے رابطہ کار کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کو روکنے کا سب سے مناسب طریقہ اس بیماری کے بارے میں عوامی آگاہی اور حکام کی جانب سے فوری اقدامات ہیں۔ دنیا بھر میں برڈ فلو سے اب تک ستر سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کےانسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے اب تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ | اسی بارے میں برڈ فلو وائرس : ترکی میں 14 متاثر10 January, 2006 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری09 January, 2006 | آس پاس ترکی میں برڈ فلو کے مزید مریض08 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||