مارکیٹ میں افراتفری، سود میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے مرکزی بینک ’فیڈرل ریزرو‘ نے منگل کے روز بھی جاری رہنے والے عالمی مارکیٹوں میں مندی کے رجحان کے مدنظر ایک غیرمتوقع فیصلے میں سود کی شرح کم کرکے تین اعشاریہ پانچ فیصد کردی ہے۔ سود کی شرح میں یہ گزشتہ پچیس برسوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔ فیڈرل ریزرو کے اس فیصلے کو امریکی معیشت میں ریسیسن یا کسادبازاری روکنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے جس کے بعد یورپی ممالک کے بازار حصص میں مندی کے رجحان میں تھوڑی سی بہتری دیکھی گئی جبکہ امریکی بینک کے فیصلے کے وقت تک ایشیائی ممالک کے مارکیٹ بند ہوچکے تھے۔ بعض مبصرین نے کہا ہے کہ امریکی بینک نے پیر کے روز سے جاری رہنے والے دنیا کے مارکیٹوں میں مندی کے رجحان کے مدنظر اپنا فیصلہ ’گھبراہٹ‘ میں کیا ہے۔ ویسے امید کی جارہی تھی کہ چند ہفتوں کے اندر فیڈرل ریزر اس طرح کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ دریں اثنا امریکی صدر جارج بش نے اقتصادی بحران کے حل کے لیے کانگریس کے اراکین سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران امریکی معیشت میں جان پھونکنے کے لیے ڈیڑھ سو بلین ڈالر کے ایک پیکج پر اتفاق ہوا۔ فیڈرل ریزرو کے فیصلے کے تحت سود کی شرح چار اعشاریہ دو پانچ سے گھٹاکر تین اعشاریہ پانچ فیصد کی گئی ہے جو کہ مارکیٹ کے لیے غیرمتوقع تھی۔ اس فیصلے کے بعد امریکی حکومت امید کررہی ہے کہ عوام اپنا سرمایہ مارکیٹ میں لگاتے رہیں گے جس سے امریکی معیشت میں کسادبازاری یا سست روی کے امکان کو روکا جاسکے گا۔ ایشیا، آسٹریلیا اور یورپی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کے دوسرے دن جاری رہنے پر اقتصادی ماہرین نے عالمی کساد بازاری کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
منگل کو لندن کا فٹسی 100 انڈیکس کاروبار کے ابتداء میں ہی قریباً تین فیصد گر گیا تاہم بعد ازاں اس میں ایک فیصد کی بہتری دیکھنے میں آئی۔ ادھر جب ایشیائی اور آسٹریلوی عالمی بازارِ حصص میں کاروبار شروع ہوا تو جاپان کا نکی انڈیکس کاروبار کے پہلے ہی منٹ میں ایک اعشاریہ پانچ فیصدگرا جبکہ بعد ازاں یہ گراوٹ پانچ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ دو برس میں ایک ریکارڈ ہے۔ ہانگ کانگ کے بازارِ حصص میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آئی اور مارکیٹ پانچ فیصد سے زائد جبکہ چین اور جنوبی کوریا میں شیئر مارکیٹ پانچ فیصد تک گری۔ادھر آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مندی کا چھبیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور مارکیٹ سات اعشاریہ ایک فیصد نیچے آ گئی۔ جنوبی ایشیا میں مندی کا شدید اثر ممبئی کے سینسیکس انڈیکس پر پڑا جو بازار کھلنے کے فوراً بعد ہی اس میں نو اعشاریہ سات پانچ فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کے بعد کاروبار ایک گھنٹے کے لیے روکنا پڑا۔ پیر کو ممبئی میں بازارِ حصص میں سات اعشاریہ چار فیصد کی گراوٹ نوٹ کی گئی تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ بھارت کے وزیرِ خزانہ پی چدمبرم کا کہنا ہے کہ’حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے سرمایہ بروکرز کو ضروری لیکیوڈٹی فراہم کی جائیں گی۔‘ سنہ 2008 کا آغاز سٹاک مارکیٹوں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا ہے اور سال کے آغاز سے اب تک جاپان کا نکی انڈیکس اٹھارہ فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس چودہ فیصد، ممبئی کا سینسیکس انڈیکس بارہ فیصد اور چین کا مین شنگھائی انڈیکس سات فیصد نیچے آ چکا ہے۔ تاہم جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتی کہ فی الحال اسے حالات میں دخل اندازی کی ضرورت ہے۔ جاپان کے وزیرِ اقتصادی و مالیاتی پالیسی ہیروکو اوٹا کا کہنا ہے کہ’دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹوں کو مندی کا سامنا ہے اور بنیادی طور پر یہ رجحان امریکی مارکیٹوں کی صورتحال سے پیدا ہوا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’اس وقت صرف جاپان صورتحال پر قابو نہیں پا سکتا اور ہمیں عالمی تعاون درکار ہے۔‘ آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینک سٹراس کاہن کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی حالت’خراب‘ ہو رہی ہے اور دنیا کے تمام ممالک پر امریکی ترقی میں کمی کے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پیر کو عالمی بازارِ حصص میں گیارہ ستمبر سنہ 2001 کے بعد سب سے بڑی مندی دیکھنے میں آئی تھی۔ پیر کو لندن کا فٹسی 100 انڈیکس پانچ اعشاریہ پانچ فیصدگرا تھا جس سے قریباً ستّتر ارب پاؤنڈ مالیت کے شیئرز کا نقصان ہوا تھا۔لندن کے علاوہ پیرس اور فرینکفرٹ میں بھی سٹاک مارکیٹوں میں سات فیصد گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ممبئی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی21 January, 2008 | انڈیا معیشت کو سہارا چاہیے: بش19 January, 2008 | آس پاس عالمی منڈی میں تیز مندی 22 October, 2007 | آس پاس ممبئی بازارِ حصص میں زبردست مندی17 October, 2007 | انڈیا ایشیائی حصص میں ایک بار پھر کمی29 August, 2007 | آس پاس عالمی منڈی بحرانی کیفیت میں18 August, 2007 | آس پاس دنیا بھر کے حصص بازار مندے میں28 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||