امریکہ میں شرح سود میں مزید کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے مالیاتی ادارے فیڈرل ریزور نے ملک میں اقتصادی مشکلات کے پیش نظر بینکوں کو دیئے جانے والے قرضوں کی شرح سود میں مزید کمی کر دی ہے اور اسے دو اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر کے مہینے سے لے کر امریکہ قرضوں کی شرح سود میں ساتویں مرتبہ کمی کر چکا ہے اور اسے مرحلہ وار پانچ اعشاریہ دو پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل ریزور کی طرف سے کئے جانے والے اعلان پر منقسم رائے پائی جاتی ہے کہ اس میں ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے کہ شرح سود میں آخری کمی ہو گی۔ امریکہ کی معیشت ہاوسنگ مارکیٹ میں شدید مندی کے باعث بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفنی فیلڈر کے مطابق ساتویں مرتبہ شرح سود میں کمی کے بعد کمیٹی کو ظاہری طور پر یہ امید ہو گئی کہ اس کے بعد شرح سود میں مزید کمی نہ کرنی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سہ ماہی میں ملک کی کل قومی پیداوار میں اضافے کے اشارے ملے ہیں جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ امریکہ میں اس سال مسلسل دو سہ ماہیوں میں پیداوار میں ترقی منفی نہیں ہو گی اور معیشت کو سنبھالہ دینے کے لیے بنائے گئے پیکج کار گر ثابت ہوں گے۔ امریکہ میں حکومت کی طرف سے ٹیکسوں کی مدد میں دی جانے والی چھوٹ کی رقم لوگ تک پہنچا شروع ہو گئی ہیں جس سے اس سال گرمیوں میں معیشت میں تیزی آنے کی امید ہے۔ فیڈرل ریزور کی طرف سے جاری ہونےوالے بیان کے مطابق یہ شرح سود میں یہ کمی بہت ضروری تھی۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||