BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 June, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمتیں بحران نہیں: امریکہ
تیل نکالنے کا عمل(فائل فوٹو)
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق آئندہ اٹھارہ ماہ میں تیل کی قیمت دو سو ڈالر تک پہنچ سکتی ہے
امریکہ کے توانائی کے سیکرٹری سیمویل بوڈمین نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ پریشان کن ہے لیکن کوئی بحران نہیں ہے۔

تیل کی قیمت ایک دن میں ریکارڈ اضافے کے بعد تقریباً ایک سو انتالیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ اور سیاسی کشیدگی کے باعث جولائی میں یہ ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل بھی ہوسکتی ہے۔

سیمویل بوڈمین نے کہا ہے کہ دنیا میں تیل کی پیداوار کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تیل کی فروخت میں سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

سیمویل بوڈمین کا کہنا تھا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کسی بحران کی علامت نہیں، پریشان کن ضرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ غور کریں تو گزشتہ تین برسوں میں مسلسل تیل کی پیداوار پچاسی ملین بیرل روزانہ رہی ہے جبکہ تیل کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی توانائی کے سیکرٹری جاپان میں ہیں جہاں وہ ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ایٹ کے وزراء کی ایک میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔ جی ایٹ ممالک کے علاوہ چین، ہندوستان اور جنوبی کوریا کے وزراء بھی اس میٹنگ میں شریک ہو رہے ہیں جس کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے طریقۂ کار پر غور کرنا ہے۔

نیو یارک میں ہلکے خام تیل کی قیمت جمعہ کو ایک سو اڑتیس عشاریہ چوّن ڈالر تھی جو کاروبار بند ہونے کے بعد ایک سو انتالیس عشاریہ بارہ ڈالر ہوگئی۔ خام تیل کی قیمت پہلے ہی گزشتہ ماہ ایک سو پینتیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

تیل کی قیمت میں اضافہ اس وقت ہوا ہے جب ڈالر کی قیمت اور وال سٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور امریکہ میں بیس سال میں سب سے زیادہ بیروزگاری دیکھی جا رہی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ اسرائیل کا یہ بیان بھی ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کی صورت میں ایران پر حملہ ناگزیر ہوگا۔ اسرائیل کے ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ایک اخبار کو بیان دیا تھا کہ ’اگر ایران نے جوہری اسلحہ بنانے کا پروگرام جاری رکھا تو ہم اس پر حملہ کریں گے۔‘

نائجیریا میں شیوران کارپوریشن کے ملازمین کی طرف سے ہڑتال پر جانے کا امکان بھی منڈی کے لیے پریشانی پیدا کر رہے ہیں کیونکہ اس سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آئندہ اٹھارہ مہینوں میں تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔ شمالی امریکہ میں بی بی سی کے مدیر جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ منفی اعداد و شمار امریکیوں کو یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ انہیں شدید مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا ہے جو شاید کساد بازاری کی صورت بھی اختیار کر لے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد