آسٹریلیا’عراق میں تیل کے لیے ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ عراق میں اس کے فوجیوں کی مسلسل موجودگی کا ایک بڑا سبب تیل کومحفوظ کرنا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس قسم کا اعتراف کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر دفاع برینڈن نیلسن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ’قدرتی وسائل کا تحفظ، ان کی حکومت کی ایک ترجیج ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جزیرہ فارس میں آسٹریلوی فوجیوں کی موجودگی کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہاں انسانی صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے۔ آسٹریلیا دو ہزار تین میں عراق پر حملے میں بھی حصہ دار تھا اور اب بھی خطے میں اس کے پندرہ سو فوجی تعینات ہیں جنہیں مستقبل قریب میں واپس بلانے کا اس کا کوئی منصوبہ نہیں۔ قومی سلامتی کی پالیسی پر نطرثانی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تیل کی ترسیل اس پالیسی پر اثر انداز ہوئی ہے۔ ’ آج جن دفاعی ترجیحات کا ہم اعلان کر رہے ہیں ان میں آسٹریلیا کے دفاع اور سکیورٹی اور وسائل کے تحفظ جیسے معاملات شامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ نہ صرف عراق بلکہ مشرق وسطیٰ کا سارا خطہ دنیا بھر کے لیے توانائی، خاص طور پر تیل مہیا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ عراق کے معاملے میں جھوٹ بولتی رہی ہے۔ حزب مخالف کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں وزیر اعظم جان ہوورڈ اس بات پر مصر رہے ہیں کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت کی برطرفی کا تیل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیر اعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اِن سیاستدانوں کا الزام ہے کہ وہ عراق کے معاملے میں بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسی بدلتے رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں عراق پر حملے کے مخالفت میں مظاہرے کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کے اس اعتراف نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کا بڑا مقصد تیل قابو کرنا تھا نہ کہ انتہائی تباہ کن ہتھیار برآمد کرنا۔ ناقدین کی ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے دارالحکومت کینبرا میں وزراء کا کہنا ہے کہ وہ عراق کو استحکام دینے اور وہاں دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے لیے امریکہ کی مدد کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے سے آسٹریلوی فوجیوں کی واپسی کے سلسلے میں ’کسی جلد بازی‘ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||