BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق، تقسیم و تباہی کےدہانے پر‘
متحارب گروپوں کے درمیان مقامی سطح پر لڑائیاں جاری ہیں: رپورٹ
ایک رپورٹ کے مطابق عراق جس دور سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کی تقسیم اور تباہی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرنے والے ایک برطانوی تھِنک ٹینک چیٹہم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکومت ملک کے کئی علاقوں میں انتہائی کمزور اور غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ایک جنگ نہیں ہو رہی بلکہ مقامی سطح کی متعدد خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں عراق کے بارے میں امریکی اور برطانوی حکمت عملی میں زبردست تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے عراق کے ہمسایہ ممالک سے زیادہ صلاح و مشورہ ہونا چاہئیے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت آئی ہے جب ایران نے کہا ہے کہ عراق میں سیکورٹی کی صورتحال پر مذاکرات کی غرض سے ایرانی اور امریکی سفارتکار اٹھائیس مئی کو ملاقات کر رہے ہیں۔

 مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ان میں گفتگو کا موضوع صرف عراق ہوگا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا

مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ان میں گفتگو کا موضوع صرف عراق ہوگا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا۔

اس کے علاوہ جمعرات کو واشنگٹن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بُش کے درمیان ملاقات میں بھی عراق کی صورتحال زیر بحث آئے گی۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ عراق میں سکیورٹی صورتحال کئی مقامات پر اچھی نہیں لیکن پورے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کاروں کے حملوں کا مرکز زیادہ تر چار صوبے رہے ہیں جو ملک کی آبادی کے بیالیس فیصد سے بھی کم ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ’ عراق نے ایک قلیل عرصے میں طویل سفر طے کیا ہے اور اب بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ وہ عراقی حکومت کا ساتھ دے۔‘

سفارتی معاملات کے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز نے چیٹہم ہاؤس کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ یہ واضح طور پر ایک تاریک عراق کی منظر کشی کرتی ہے۔

 رپورٹ کے مصنف کا استدلال ہے کہ عراق کے ٹکڑے ہونے کے امکانات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ ملک کے بڑے علاقوں میں مرکزی حکومت کی کچھ نہیں چلتی اور متحارب گروپ اپنے اپنے علاقوں پر کنٹرول کے لیے خانہ جنگی میں مصروف ہیں
رپورٹ کے مصنف کا استدلال ہے کہ عراق کے ٹکڑے ہونے کے امکانات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ ملک کے بڑے علاقوں میں مرکزی حکومت کی کچھ نہیں چلتی اور متحارب گروپ اپنے اپنے علاقوں پر کنٹرول کے لیے خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ مقامی رہنماؤں نے مقامی سطح پر القاعدہ کو روک کے رکھا ہے، تاہم ملکی سطح پر گروپ کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں واضح ربط دکھائی دیتا ہے۔

ادھر جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سفیروں کی سطح پر ایران امریکہ مذاکرات اٹھائیس مئی کو ہی ہوں گے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان اس سطح پر مذاکرات کا ایک دور بغداد میں اور مختصر تبادلہ خیالات کا ایک دوسرا دور اِس ماہ کہ اوائل میں مصر میں ایک کانفرنس کے دوران ہو چکا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ ایران عراق میں شیعہ مزاحمت کاروں کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، اور دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی اور دیگر اتحادی فوجوں کو وہاں سے نکل جانا چاہیئے۔

 صدر بش کو بلینک چیک نہیں: نینسی پیلوسی عراق جنگ کی فنڈِنگ
امریکی کانگریس میں اختلافات
’رپورٹ سامنے لائیں‘
عراقی ہتھیار: برطانوی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد