’عراق، تقسیم و تباہی کےدہانے پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ کے مطابق عراق جس دور سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کی تقسیم اور تباہی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرنے والے ایک برطانوی تھِنک ٹینک چیٹہم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکومت ملک کے کئی علاقوں میں انتہائی کمزور اور غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ایک جنگ نہیں ہو رہی بلکہ مقامی سطح کی متعدد خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں عراق کے بارے میں امریکی اور برطانوی حکمت عملی میں زبردست تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے عراق کے ہمسایہ ممالک سے زیادہ صلاح و مشورہ ہونا چاہئیے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت آئی ہے جب ایران نے کہا ہے کہ عراق میں سیکورٹی کی صورتحال پر مذاکرات کی غرض سے ایرانی اور امریکی سفارتکار اٹھائیس مئی کو ملاقات کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ ان میں گفتگو کا موضوع صرف عراق ہوگا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا۔ اس کے علاوہ جمعرات کو واشنگٹن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بُش کے درمیان ملاقات میں بھی عراق کی صورتحال زیر بحث آئے گی۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ عراق میں سکیورٹی صورتحال کئی مقامات پر اچھی نہیں لیکن پورے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کاروں کے حملوں کا مرکز زیادہ تر چار صوبے رہے ہیں جو ملک کی آبادی کے بیالیس فیصد سے بھی کم ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا ’ عراق نے ایک قلیل عرصے میں طویل سفر طے کیا ہے اور اب بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ وہ عراقی حکومت کا ساتھ دے۔‘ سفارتی معاملات کے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز نے چیٹہم ہاؤس کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ یہ واضح طور پر ایک تاریک عراق کی منظر کشی کرتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ مقامی رہنماؤں نے مقامی سطح پر القاعدہ کو روک کے رکھا ہے، تاہم ملکی سطح پر گروپ کی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں واضح ربط دکھائی دیتا ہے۔ ادھر جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سفیروں کی سطح پر ایران امریکہ مذاکرات اٹھائیس مئی کو ہی ہوں گے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان اس سطح پر مذاکرات کا ایک دور بغداد میں اور مختصر تبادلہ خیالات کا ایک دوسرا دور اِس ماہ کہ اوائل میں مصر میں ایک کانفرنس کے دوران ہو چکا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران عراق میں شیعہ مزاحمت کاروں کو اسلحہ فراہم کرتا ہے، اور دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی اور دیگر اتحادی فوجوں کو وہاں سے نکل جانا چاہیئے۔ |
اسی بارے میں عراق: خودکش بم دھماکہ 30 ہلاک13 May, 2007 | آس پاس خود کش حملے اور دھماکے، سو ہلاک29 March, 2007 | آس پاس رمادی: کار بم دھماکے، 24 ہلاک07 May, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکے میں 33ہلاک06 May, 2007 | آس پاس امریکی فائرنگ سے چھ بچے ہلاک08 May, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||