BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمادی: کار بم دھماکے، 24 ہلاک
رمادی حملہ(فائل فوٹو)
پہلا دھماکہ رمادی کے نواح میں واقع ایک پرہجوم بازار میں ہوا
عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے مغرب میں رمادی کے قصبے میں دو خود کش کار بم حملوں میں کم از کم چوببیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

انبار صوبے کے سینئیر سکیورٹی افسر طارق الدلیمی نے اے ایف پی کو بتایا کہ’یہ دھماکے کار بم حملے تھے‘۔

پہلا دھماکہ رمادی کے نواح میں واقع آبادی ابوطیب کے ایک پرہجوم بازار میں ہوا جس میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے۔اس دھماکے کے پندرہ منٹ بعد الجزیرہ میں واقع پولیس چیک پوائنٹ پر ہونے والے ایک اور دھماکے کا نشانہ پانچ پولیس اہلکار اور پانچ راہگیر بنے جبکہ اس دھماکے میں دس افراد زخمی ہوئے۔

یہ حملے ایک ایسے علاقے میں ہوئے ہیں جہاں کے مقامی قبائل گزشتہ چھ ماہ سے القاعدہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں شدت پسند سنی گروپ کے حامیوں کی جانب سے انتقامی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی فوج نے عراق میں القاعدہ کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور حال ہی میں پندرہ مبینہ مزاحمت کاروں کو حراست میں بھی لیا ہے لیکن اِن کارروائیوں کے باوجود خودکش کار بم حملوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

رمادی میں حالیہ حملے بھی اس وقت ہوئے ہیں جب اتوار کو عراق میں سو شہریوں کو یا تو ہلاک کر دیا گیا ان کی لاشیں ملیں جبکہ آٹھ امریکی فوجی اور ایک یورپی صحافی دھماکوں کا نشانہ بنے تھے۔امریکی فوج نے بھی دیالہ صوبے میں بم ھماکے میں چھ امریکی فوجیوں اور ایک نامعلوم صحافی جبکہ بغداد میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

ادھر عراق کے ایک نمایاں سّنی گروپ، عراقی اسلامک پارٹی نے ایک بار پھر شیعہ مسلح افراد پر بغداد میں سّنی مساجد پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔پارٹی نے کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا نے اتوار کے روز بایا ڈسٹرکٹ کی صادق الامین مسجد کے امام اور ایک مبلغ کو اغواء کر لیا ہے۔

ان کا یہ بھی دعوٰی ہے شیعہ ملیشیا گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسی علاقے کی ایک اور مسجد فتح بشا پر کئی بار گولیاں چلاچکی ہے۔ عراقی اسلامک پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حملے علاقے میں عراقی سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد