BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 May, 2007, 06:05 GMT 11:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی ہتھیار:رپورٹ سامنے لانےکامطالبہ
جان ولیمز
رپورٹ برطانوی دفترِ خارجہ کے پریس سیکرٹری جان ولیمز نے بنائی تھی
برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سنہ 2002 میں عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں تیار کی جانے والے رپورٹ کا مسودہ منظرِ عام پر لائے۔

اس رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس میں صدام حسین کے پاس پنتالیس منٹ میں قابلِ استعمال بنائے جانے والے تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں اشارے موجود ہوں۔

یہ رپورٹ برطانوی دفترِ خارجہ کے اس وقت کے پریس سیکرٹری جان ولیمز نے تیار کی تھی اور انہوں نے گزشتہ برس بھی اس امر کی تردید کی تھی کہ ان کی رپورٹ میں ایسے ’ریفرنسز‘ موجود تھے جن میں صدام حکومت کی پنتالیس منٹ میں تباہ کن ہتھیاروں کو قابلِ استعمال بنانے کی بات کی گئی ہو۔

اس رپورٹ کو سامنے لانے کا مطالبہ معلومات تک آزادانہ رسائی کے قانون کے تحت کیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ برطانوی وزیرِخارجہ مارگریٹ بیکٹ کریں گی۔

یاد رہے کہ صدام حکومت کے پاس پنتالیس منٹ میں قابلِ استعمال بنائے جانے والے تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کی بات 2002 میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں رپورٹ کے دیباچے میں سامنے آئی تھی۔

اس بارے میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ دعوٰی برطانوی حکومت نے عراق کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے کیا تھا حالانکہ خفیہ ایجنسیاں اس کی مخالف تھیں۔

بی بی سی کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومت اور بی بی سی میں تنازعہ شروع ہوگیا تھا، جو بی بی سی کی رپورٹ کے ماخذ یعنی تباہ کن ہتھیاروں کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت پر منتج ہوا تھا۔

ڈاکٹر کیلی کی موت کی تفتیش کرنے والی ہٹن انکوائری نے ان کی ہلاکت کو خودکشی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’پنتالیس منٹ کا دعوٰی‘ خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کمیٹی کے سربراہ جان سکارلیٹ کی آشیر باد کے ساتھ ہی اس رپورٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد