| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہٹن رپورٹ پر ڈایک کے شبہات
بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈایک نے کہا ہے کہ اپنی رپورٹ میں ’لارڈ ہٹن نے کچھ قانونی نکات پر واضح طور پر غلطی کی ہے۔‘ انہوں نے جی ایم ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کے مواصلات کے سابق ڈائریکٹر ایلسٹر کیمبل رپورٹ آنے کے بعد بہت ’نا مہربان‘ رہے ہیں۔ گریگ ڈایک نے جنہوں نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، کہا کہ انہیں اس بات میں گہری دلچسی ہوگی کہ ڈاکٹر کیلی کی موت کے بارے میں لارڈ ہٹن کے نتائج پر قانون کے دیگر ماہرین کیا تبصرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں معلوم تھا کہ غلطیاں کی گئی ہیں لیکن ہمیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ غلطیاں صرف ہم نے کی ہیں۔‘ گریگ ڈایک کا کہنا تھا کہ وہ سبکدوش ہونے والے بی بی سی کے چیئرمین گیون ڈیویز سے متفق ہیں کہ انسان اپنی مرضی کا ریفری نہیں چن سکتا اور اسے فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں۔ تاہم انہوں نے از راہِ مذاق کہا ’لگتا ہے حکومت نے ریفری چن لیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہماری ایک رائے ہے۔ اس رپورٹ میں کچھ ایسے نکات ہیں جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ لارڈ ہٹن سے غلطی ہوئی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لارڈ ہٹن غلط ہیں۔ یہ صرف ایک رائے ہے۔‘ انہوں نے ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ’میں ساری کی ساری رپورٹ کو نہیں مانتا‘۔ انہوں نے اس موقع پر لارڈ ہٹن کی رپورٹ پر آئی ٹی این کے سابق چیف ایگزیکٹو کے تبصرے کا حوالے دیا جنہوں نے کہا تھا: ’کمال کی بات یہ ہے کہ لارڈ ہٹن نے شک کا فائدہ حکومت میں ہر ایک کو دیا ہے لیکن بی بی سی میں کسی ایک کو بھی نہیں دیا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||