BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2008, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایسا مشکل وقت پہلے نہیں دیکھا‘

امریکی حکومت نے ماگیج کمپنیوں فینی مے اور فریڈی میک کی مدد کے لیے سو ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم دی تھی۔
میں پچیس سال سے صحافت کر رہا ہوں لیکن مالیاتی شعبہ میں دو دن کی ہفتہ وار تعطیل کےدوران میں نے حالات کو اتنا بگڑتے ہوئے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

اور وال سٹریٹ میں، جو دنیا میں مالیاتی سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز ہے، انیس سو بیس کے مالی بحران کے بعد شاید چوبیس گھنٹوں میں اتنے غیرمعمولی حالات پہلے کبھی رونما نہیں ہوئے۔

جیسی میں نے اتوار کو پیش گوئی کی تھی، لیہمین برادرز نے دیوالیہ پن کی درخواست داخل کر دی ہے۔ اور بینک آف امریکہ مشکلات میں گھرجانے والے دوسرے بڑے بینک میرل لنچ کو پچاس ارب ڈالر میں خرید رہا ہے۔

میرل لنچ کا یہ فیصلہ کہ بینک آف امریکہ اسے خرید لے اتنا ہی حیرت انگیز ہے جتنا کہ لیہمین برادارز کا دیوالیہ ہونا۔ میرل لنچ کو اب یہ اعتماد حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک آزاد ادارے کے طور پر قائم رہ سکتا ہے جس کی وجہ سےاس نے بینک آف امریکہ کا سہارا لیا ہے۔

اس کے علاوہ اے آئی جی، جو دنیا کی سبب سے بڑی انشورنس کمپنیوں میں شامل ہے، مالی بحران کا شکار ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق کمپنی نے امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک سے چالیس ارب ڈالر کا قرض مانگا ہے۔

جہاں تک اس پورے بحران میں فیڈرل ریزرو کے کردار کا تعلق ہے، اس نے مالیاتی ادارروں کی مدد کرنے کے لیے اپنے ضابطوں میں نرمی کی ہے تاکہ وہ ان مسائل سےنمٹنے کے لیے ایک دوسرے سے کم مدت کے قرض آسانی سے حاصل کرسکیں۔

حالات اتنے سنگین ہیں کہ دس بڑے بینکوں نے، جن میں سٹی گروپ، گولڈمین سیکس اور اور جے پی مارگین شامل ہیں، ستر بلین ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا ہے جو شرکا بینک حسب ضرورت استعمال کر سکیں گے۔

حالیہ برسوں میں عالمی معیشت کو اتنے مشکل حالات سے نہیں گزرنا پڑا ہے۔ دنیا کے زیادہ تر علاقوں میں بینکوں اور سرمایہ کاروں کی یہ کوشش ہوگی کہ کسی طرح آج کا دن (پیر) گزر جائے۔

اپنا علیحدہ فنڈ قائم کرنے والے بینکوں نے اس میں سات سات ارب ڈالر ڈالے ہیں۔

موجودہ مالی بحران اس وجہ سے نہیں کہ سرمایہ کی کمی ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ جہاں نقد رقم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہاں پیسہ دستیاب نہیں۔

اسی بارے میں
معیشت کو سہارا چاہیے: بش
19 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد