عالمی مالیاتی بحران مسلسل جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینک کرپسی پروٹیکشن کےلیے امریکہ کے چوتھے بڑے سرمایہ کاری بینک، لیہمن بردرز کی درخواست کے بعد سٹاک مارکیٹوں مندی کا رحجان مسلسل جاری ہے۔ یورپی مارکیٹوں کو دوسرے دن بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا اور برطانیہ کی ایف ٹی ایس سی 100 اور جرمنی کی دیکس دونوں ایک اعشاریہ سات فیصد نیچے گئیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ میں شئرز کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کی کمی آئی۔ لیہمن گھروں کی خریداری کے لیے دیے جانے والے قرضوں یا مارٹگیج کے باعث بحران کا شکار ہوا ہے اور اب بحران سے نکلنے کے لیے اپنے اہم اثاثے بارکلیز کو فروحت کرنے والا ہے۔ شئرز کے بڑے برطانوی ادارے ایف ٹی ایس سی ہنڈرڈ میں شئرز اکیانوے پوائنٹ سے 5113 تک نیچے گئے۔ جب کہ جرمنی میں شئرز کے بڑے ادارے ڈیکس کا انڈیکس ایک سو چھ پوائنٹ سے 5959 اور فرانس کا سی اے سی چالیس 65 پوائنٹ سے 4104 پوائنٹ نیچے گیا۔ پیر کو امریکی مارکیٹوں کے لیے 11/9 کے بعد آنے والا بدترین دن تھا اور دن کے آخر پر ڈاؤ جان انڈیکس 49ء504 پوائنٹ اور 42ء4 کی کمی کے ساتھ51ء 10917 پوانٹ پر بند ہوا۔ جاپان میں نکئی 225 انڈیکس میں پانچ فیصد کی کمی آئی جو گزشتہ تین سال کے دوران سب سے کم سطح تھی۔ جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کی مارکیٹوں میں مندی کی شرح چھ فیصد اور ہانگ کانگ میں تین فیصد رہی۔ چین میں شیئر کے بھاؤ 47ء4 گرے اور بیجنگ نے پیر کو اس مالی سال میں پہلی بار شرح سود میں کمی کی۔
بینچ مارک شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس جو اے اور بی دونوں طرح کے شئرز کوّر کرتا ہے 04ء 93 پوائنٹ کے ساتھ 39ء1974 کی سطح کو چُھوتا ہوا 64ء1976 پر بند ہوا۔ تائی پائی اور سنگا پور کی مارکیٹوں میں شدید مندی کا رحجان دیکھنے میں اور یہی رحجان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی دیکھنے میں آیا اگرچہ یہاں مندی قدرے کم تھی۔ بینک سٹاکوں کو بھی شدید دھچکا لگا ہے اور لندن میں ایچ بی او ایس بارہ فیصد رائل بینک آف سٹاک لینڈ سات فیصد سے نیچے گئے۔ لیہمن بردرز کے کچھ کاروبار کو خریدنے کا عزم ظاہر کرنے والے بارکلے بینک کے شئرز کے بھاؤ میں پانچ فیصد سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی۔ فرانس اور جرمنی کے بینک سٹاکوں میں چار سے تین اعشاریہ سات فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔ امریکہ اور یورپ کے مرکزی بینکوں کی طرح ایشیا کے مرکزی بینکوں نے بھی مارکیٹوں کو سہارا دینے کی کوششیں کی ہیں۔ بینک آف جاپان نے بینکوں کو دو اعشاریہ پانچ ٹریلین ین (تیرہ ارب پاؤنڈ) کا سرمایہ فراہم کیا ہے جب کہ بھارت اور آسٹریلیا نے بھی سرمایہ مارکیٹوں میں سرمایہ دیا ہے۔ امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے ہنگامی قرضوں کی سکیم میں توسیع کی ہے اور یورپ و برطانیہ نے اپنے مالیاتی نظاموں کو انتالیس ارب ڈالر کا سرمایہ فراہم کیا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکہ:مالی بحران، بڑی کمپنیاں مشکل میں15 September, 2008 | آس پاس ایشیائی مارکیٹیں بحران کی زد میں15 September, 2008 | آس پاس امریکی بینک کو دیوالیہ پن کا سامنا 15 September, 2008 | آس پاس ’ایسا مشکل وقت پہلے نہیں دیکھا‘15 September, 2008 | آس پاس مالیاتی کمپنیوں پر حکومتی کنٹرول08 September, 2008 | آس پاس امریکہ:مکانوں کے قرضے بحران جاری08 September, 2007 | آس پاس امریکہ میں شرح سود میں مزید کمی01 May, 2008 | آس پاس مارکیٹ میں افراتفری، سود میں کمی22 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||