BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 September, 2008, 01:25 GMT 06:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اربوں ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز
صدر بش
امریکہ اب مزید خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا:صدر بش
امریکی مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے امریکہ کی وزارتِ خزانہ کے اعلان کردہ منصوبے کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وزارتِ خزانہ نے ایک ایسے آٹھ سو ارب ڈالر تک کی مالیت کے ایک فنڈ کے قیام کی تجویز دی ہے جو کہ امریکہ کی مارگیج مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ خرید لے گا۔

تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ صرف امریکی مالیاتی اداروں کے اثاثے خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے حکام اور کانگریس کی بینکنگ کمیٹی ممبران کے درمیان واشنگٹن میں سنیچر کو ملاقات بھی ہو رہی ہے جہاں اس منصوبے کی تحریری شکل پر بات ہو گی۔

امریکی وزیرِ خزانہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکی معیشت میں بہتری لانے کے لیے ’بڑے فیصلے‘ کرنا ہوں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حکومت مشکلات کا شکار امریکی بینکوں کی’بیلنس شیٹس‘ سے تباہ کن قرضوں کی صفائی کا منصوبہ لا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ امریکہ اپنی مارکیٹوں کوگرفت میں لینے والے مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی اقدامات ‘ کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ڈوبے ہوئے قرضوں کی خریداری جیسے ممکنہ اقدمات کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کی جانب سے دی جانے والی رقم کا ایک بڑا حصہ استعمال ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تیزی سے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب مزید خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اور ’ہمیں معیشت کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے‘۔

صدر بش نے کہا کہ’امریکہ کو اس وقت غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے اور ہم اس کے جواب میں غیر معمولی اقدامات ہی کر رہے ہیں‘۔

ادھر عالمی بازارِ حصص میں امریکی حکام کی جانب سے عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ کی تیاری کے اعلان کا مثبت اثر دیکھنے میں آیا ہے اور جمعہ کو دنیا بھر کے بازارِ حصص میں تیزی کا رجحان رہا۔

نیویارک کے ڈاؤ جونز انڈیکس نے جمعرات کو ساڑھے تین فیصد کی بہتری کے رجحان کو قائم رکھا اور جمعہ کو بازار مزید تین فیصد بہتری کے بعد بند ہوا جبکہ لندن میں جمعہ کو بازارِ حصص میں تاریخ کی سب سے زیادہ تیزی دیکھنے میں آئی اور مارکیٹ کے حجم میں چار سو اکتیس پوائنٹس یا قریباً نو فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانیہ کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ ایشیائی مارکیٹیں پہلے ہی امریکی حکومت کی امداد کی خبروں کے بعد مثبت زون میں بند ہوئی تھیں۔

مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکی حکومتی امداد کے منصوبے کی تیاری کا اعلان امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے جمعرات کو شام گئے کانگریس ممبران سے ملاقات کے بعد کیا تھا۔ ہنری پالسن کا کہنا تھا کہ بینکوں کو ڈوبے ہوئے قرضوں سے نجات دلانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈوبے ہوئے قرضوں سے چھٹکارا اس بچاؤ منصوبے کا مرکزی نکتہ ہے جس کی تفصیلات اس ہفتے کے اختتام تک طے کر لی جائیں گی۔

دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
جنگیں اور معاشیات
تین کھرب کی امریکی جنگیں اور مالی بحران
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
امریکہ ریکارڈ خسارہ
دو ہزار نو کیلیے چار سو اڑتیس ارب کے تخمینے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد