BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 September, 2008, 00:32 GMT 05:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر معمولی‘ اختیارات کا تقاضا
صدر بش اور ہنری پالسن
منصوبے کے تحت بش کے وزیرِ خزانہ کو غیر معمولی اختیارات مل جائیں گے
بش انتظامیہ نے امریکی مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے امدادی منصوبہ کا مسودہ کانگریس کے سامنے پیش کر دیا ہے جس میں حالیہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ’غیر معمولی اختیارات‘ کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی وزیرِ خزانہ کو آئندہ دو برس کے لیے بحران کا شکار بینکوں سے ان کے ڈوبے ہوئے مارگیج قرضے خریدنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کے استعمال کا کل اختیار دے دیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں وزیرِ خزانہ کا کوئی بھی عمل کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

امریکی صدر جارج بش نے ایک ریڈیائی خطاب میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان پر یہ بوجھ ڈالنے کی قیمت اس قیمت سے کہیں بہتر ہے جو ملازمتوں کے خاتمے اور خراب ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس کی صورت میں ادا کرنی پڑتی۔

ادھر کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر چارلس شومر نے کہا ہے کہ امریکی پارلیمان اس منصوبے کو جلد از جلد منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس منصوبےسے مالیاتی اداروں کی مدد تو ہو گی مگر اس میں ٹیکس دہندگان اور گھروں کے مالکان کو کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے بھی کہا ہے کہ ڈیموکریٹ بش انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس بحران سے جلد از جلد نمٹنے کے لیے کام کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کم اور اوسط آمدن والے امریکیوں کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ایک ایسا پیکج لایا جائے جس کے نتیجے میں نوکریاں پیدا ہوں اور ملک کی معاشی ترقی دوبارہ شروع ہو۔

یاد رہے کہ امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اب مزید خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر تیزی سے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
جنگیں اور معاشیات
تین کھرب کی امریکی جنگیں اور مالی بحران
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
امریکہ ریکارڈ خسارہ
دو ہزار نو کیلیے چار سو اڑتیس ارب کے تخمینے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد