امریکہ، بینکوں کا سٹیٹس تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے دو آخری بڑے سرمایہ کار بینک گولڈمین سیکز اور مورگن سٹینلی اپنی حیثیت تبدیل کرکے بینک ہولڈنگ کمپنی بن گئے ہیں تاکہ وہ کمرشل بنک کاری کے ذریعے سرمایہ کاروں سے پیسہ وصول کر سکیں۔ اس تبدیلی سے یہ دونوں بینک کمرشل بینک کھول کر زیاد فنڈ جمع کر سکیں گے۔ یہ قدم وال سٹریٹ کی بحالی نو کی کوششوں کا ایک حصہ ہے جس سے ان بینکوں کو فیڈرل ریزرو کی حمایت بھی حاصل ہوسکے گی۔ امریکی حکومت نے بدترین قسم کے اس معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے سات سو ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے منصوبے کا اعلان امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے کیا جس پر کانگریس غور رہی ہے۔ اس کے تحت ایک فنڈ کے قیام کا منصوبہ ہے جس سے خسارہ میں چل رہے بیشتر اداروں کے قرضوں کو خرید لیا جائےگا۔ یہ قرضے ہی بازار میں مالی بحران کا سبب بنے ہیں۔ حالیہ معاشی بحران کے سبب مورگن سٹینلی اور گولڈمین سیکز کے بارہ میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ شاید اس صورت حال میں اپنے پیروں پر زیادہ دیر کھڑے نہ رہ پائیں ۔ دونوں بینکوں کے شیئر زبردست دباؤ میں آگئے تھے۔ دونوں بینکوں نے اپنے سٹیٹس کی تبدیلی کے لیے فیڈرل ریزرو کو درخواست دی تھی جسے اتوار کے روز فیڈرل ریزرو نے منطوری دے دی۔ جانز ڈے لاء فرم کے اہلکار چِپ میک ڈونلڈ نے ان بینکوں کی تبدیلی پر اپنے ردعمل میں کہا:’اس سے نگرانی اور تحفظ کےاحساس میں اضافہ ہوتا ہے، اور نگرانی کا نظام بھی مزید بہتر ہوتا ہے۔ یہ مورگن سٹینلی اور گولڈمین سیکز کے لیے اچھا ہوگا۔‘ امریکی بینکوں میں گزشتہ چند ہفتوں میں ڈرامائی اور غیر متوقع تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ میرل لنچ کو بینک آف امریکہ نے خرید لیا جبکہ لیہمن برادرز نے دیوالیہ قرار دیے جانے کی درخواست دی۔ امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے دوسرے ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ عالمی معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکی طرز پر کام کریں۔ دونوں صدارتی امیدوار بھی اس بحران کے متعلق اپنے اپنے خیلات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے کہا ہے کہ کانگریس میں دونوں پارٹیوں کے ساتھ مل کر صدر بش کو اس بحران کی ذمہ داری اپنے سر لے لینی چاہیئے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدار باراک اوبامہ نے اشاردہ دیا کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو انکی انتظامیہ مسٹر پالسن سے کوئی کردار ادا کرنے کو کہ سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے ان بینکوں کی مالی مدد کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبہ پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ اس کے نفاذ کے لیے نگرانی کے ایک آزادانہ نظام کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں عالمی مالیاتی بحران مسلسل جاری16 September, 2008 | آس پاس معیشت کو سہارا: منصوبہ منظور08 February, 2008 | آس پاس ’امداد مقاصد حاصل کرنے میں ناکام‘17 May, 2008 | آس پاس امریکی فوج مالی مشکلات کا شکار22 December, 2007 | آس پاس عراق:امریکی حملے میں شہری ہلاکتیں19 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||