امریکی فوج مالی مشکلات کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق اور افغانستان میں صحیح ڈھنگ سے کاروائی کے لیے فوج کے پاس پیسوں کی کمی ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں امریکی افواج کی واپسی طے شدہ پروگرام کے تحت ہونا ممکن ہے کیونکہ وہاں حالات معمول پر آتے جا رہے ہیں۔ رابرٹ نے بتایا کہ عراق میں حالات معمول پر ہیں اور اگر ایسا ہی رہا تو امریکی فوج کی واپسی آئند برس سے شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حالات میں بہتری کے مد نظر جولائی 2008 تک امریکی افواج کی بیس میں سے پانچ بریگیڈ وطن واپس جا سکتی ہیں۔ سال کے آخر میں ہونے والی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی فوج کو عراق اور افغانستان میں مالی کمی بھی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے اضافی رقم کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو فوج کے کام پر اثر پڑے گا جو تشویشناک ہوگا۔ گزشتہ دنوں امریکی اسمبلی کی جانب سے فوج کو 70 ارب امریکی ڈالر کے خرچ کی منظوری دی گئی تھی، لیکن وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ رقم مطلوبہ رقم کے نصف سے بھی کم ہے۔ بش انتظامیہ جہاں دہشتگردی کے خلاف مہم کو مزید چست کرنے کی بات کرتی رہی ہے وہیں امریکی کانگریس میں موجود ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو اب افغانستان اور عراق سے واپس بلا لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں بش انتظامیہ پر حزب اختلاف کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے اور دونوں ہی ملکوں ميں امریکی فوج کی کارروائی کے معاملے پر بش کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ | اسی بارے میں ’عراق خانہ جنگی کے راستے پرگامزن‘ 29 January, 2007 | آس پاس ’امریکہ حالتِ جنگ میں ہے‘05 September, 2006 | آس پاس پہلے جنگ لڑی، اب انتخاب لڑیں گی23 March, 2006 | آس پاس ’آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے‘17 March, 2006 | آس پاس حملے کرنے کا حق محفوظ: امریکہ17 March, 2006 | آس پاس بش کا مستقبل جنگ سے وابستہ15 December, 2005 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||