عراق:امریکی حملے میں شہری ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق میں ایک فضائی حملے میں تین خواتین شہریوں سمیت سات افراد مارے گئے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ واقعہ تکریت کے نزدیک الدور نامی گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب امریکی طیاروں نےگاؤں میں موجود مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ الدور عراق کی بعث پارٹی کے سابق رہنما عزت ابراہیم الدوری کا آبائی گاؤں ہے۔ عزت ابراہیم تاحال مفرور ہیں۔ فوجی بیان کے مطابق اس حملے میں مارے جانے والوں میں تین خواتین شہری اور چار مزاحمت کار شامل تھے۔ بیان کے مطابق تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ایک بچے کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے جس کا علاج امریکی فوجی اڈے پر کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق فوجی کارروائی کا ہدف بغداد کے شمال میں بم حملوں کے نیٹ ورک کا سرغنہ تھا۔ تاہم عراقی حکام اور مقامی آبادی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس کا مزاحمتی تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق امریکی فوجیوں نے پہلے تو ایک احاطے کو گھیرے میں لے لیا اور پھر وہاں فضائی حملہ کیا گیا۔ جبکہ امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مطلوب مسلح شخص کی جانب سے حملے کی نیت بھانپ کر اسے گولی مار دی گئی اور پھر فوجیوں نے عمارت کو گھیرے میں لے کر اندر موجود افراد سے ہتھیار پھینکنے کو کہا۔ تاہم ایک گھنٹے تک کوئی عمارت سے باہر نہ نکلا جس کے بعد فضائی حملے کی درخواست کی گئی۔ | اسی بارے میں براہِ راست امریکی فوجی کارروائی18 September, 2008 | آس پاس عراق، سات امریکی فوجی ہلاک18 September, 2008 | آس پاس عراق، کنٹرول نئے جنرل کے حوالے 16 September, 2008 | آس پاس عراق خودکش دھماکہ 25 ہلاک16 September, 2008 | آس پاس عراق میں فتح نہیں: امریکی جنرل11 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||