عراق میں فتح نہیں: امریکی جنرل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹراس نے کہا ہے کہ وہ عراق میں ہونے والی حالیہ کامیابیوں کو فتح سے تعبیر نہیں کریں گے۔ جنرل پیٹراس نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو عراق میں ایک لمبی جدوجہد کا سامنا ہے اور وہاں ہونے والی حالیہ کامیابیاں کو فتخ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ عراقی شہروں سے امریکی فوج کو نکالنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جنرل پیٹراس نے کہا کہ کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ جنرل پیٹراس کو عراق میں امریکی فوجی کمانڈ سے ہٹا کر افغانستان میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ جنرل پیٹراس نے کہا کہ افغانستان میں حالات کی سمت ٹھیک نہیں ہے اور ان سے نمٹنا پڑے گا۔ امریکی صدر جارج بش نے پچھلے ہفتے آٹھ ہزار فوجیوں کو عراق سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ان اٹھ ہزار فوجیوں میں ساڑھے چار ہزار فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’ گرین زون پر حملہ ایران نےکرایا‘25 March, 2008 | آس پاس فوج کی واپسی پر نظر ثانی کی تجویز09 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||