 | | | اس تصویر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ پاکستان کے کسی علاقے کی ہے |
امریکہ کی ڈیلاوئر یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر مقتدر خان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کے خلاف اپنی فوجیں استعمال کر سکتا ہے اور اس بات کی پروا نہیں کی جائے گی کہ پاکستان تعاون کرتا ہے یا مخالفت۔ مشرف کے جانے کے بعد پاکستان امریکہ سے اتنا تعاون نہیں کر رہا جتنا کہ وہ پہلے کیا کرتا تھا اور اس بات سے یہاں کی انتظامیہ ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہی ایک اور اہم بات وہ بحثیں ہیں جو یہاں ہو رہی ہیں یا تو اوبامہ اور مکین کے الیکشن کے حوالے سے یا این پی آر پر اخبارات وغیرہ میں بھی یہی بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ صدر بش نے عراق میں جا کر غلطی کی تھی اصل خطرہ امریکہ کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے درپیش ہے اور امریکہ کو چاہیے کہ اس کی فوجی توجہ وزیرستان پر ہو، اسامہ بن لادن پر ہو اور طالبان پر ہو۔ تو امریکہ میں اب یہ سوچ آ گئی ہے کہ اصل خطرہ پاکستان ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان حکومت کے تعاون کے ساتھ یا اس کے بغیر امریکہ اپنی بڑی قوت وہاں استعمال کرے۔ اس سوال کے جواب کہ کیا یہ سوچ امریکی صدارتی انتخاب کے نتیجے میں پروپیگنڈے کا عنصر ہے یا اب امریکی عوام کی بھی سوچ یہی ہے کہ اب یہی کیا جائے اور اب تک جو ہوتا رہا ہے وہ غلط ہے۔ ڈاکٹر مقتدر کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں دو تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ عراق سے خبریں کم ہو گئی ہیں اور لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وہاں کیونکہ فوجیں زیادہ بھیجی گئی تھیں تو یہ اس کا نتیجہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان سے امریکہ کو جو خبریں ملتی ہیں وہ بڑی ناخوش کن ہیں۔ تیسری بات یہ کہ جب گیارہ ستمبر آتا ہے تو سارا ملک اس بات کو ایک بار پھر یاد کرتا ہے کہ ہم پر حملہ ہوا تھا اور اس کا آرکیٹیکٹ بن لادن تھا اور اسے اب تک پکڑا نہیں جا سکا اور اس کی وجہ یہ کہ بن لادن پاکستان میں محفوظ ہے اور حکومت ہمیں اب تک بن لادن نہیں دے سکی‘۔  | پاکستان فوج استعمال نہیں کرے گا  امریکہ کو اب یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ پاکستان اپنی فوجوں کو استعمال نہیں کرے گا اس لیے اب امریکہ کو اپنی فوجیں پاکستان میں استعمال کرنا ہوں گی، پاکستان کی مدد کے ساتھ یا پاکستان کی مدد کے بغیر اور یہ سوال امریکہ اب پاکستان پر چھوڑ دے گا کہ وہ امریکہ ساتھ کام کرے یا امریکہ کے خلاف کام کرے  ڈاکٹر مقدر |
جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ کے تھنک ٹینک اور بڑے دماغ یہ بھی تو سوچ رہے ہوں گے کیا یہ پالیسی صرف پاکستان کے لیے ہے یا پورے خطے کے لیے، اگر تو صرف پاکستان کے بارے میں ہے تو بات الگ ہے لیکن اگر پورا خطہ بدلنے جا رہا ہے تو پاکستان کے پڑوس میں افغانستان، اس کے پڑوس میں روس اور پوری وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں تو اس صورت میں ان کا ردِ عمل کیا ہو گا، کیا امریکہ کی نظر اس پر بھی ہے؟ ڈاکٹر مقتدر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تو موڈ خاصا یک طرفہ ہے اور وہ اس بات کی فکر نہیں کرتے کہ انڈیا کیا کہے گا اور روس کیا کہے گا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ اپنا زور پاکستان پر ڈال دے گا تو یہ جو طالبان کا حظرہ ہے اسے ختم کیا جا سکے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان دھیرے دھیرے طالبانائز ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کے خیالات طالبان سے زیادہ ملتے جا رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ جو نئی حکومت آئی ہے اب پاکستان میں وہ طالبان کو ختم نہیں کرنا چاہتی بلکہ طالبان کو اکوموڈیٹ (مفاہمت پیدا کرنا) کرنا چاہتی ہے‘۔ ڈاکٹر مقدر نے بتایا کہ ’امریکہ کو اب یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ پاکستان اپنی فوجوں کو استعمال نہیں کرے گا اس لیے اب امریکہ کو اپنی فوجیں پاکستان میں استعمال کرنا ہوں گی، پاکستان کی مدد کے ساتھ یا پاکستان کی مدد کے بغیر اور یہ سوال امریکہ اب پاکستان پر چھوڑ دے گا کہ وہ امریکہ ساتھ کام کرے یا امریکہ کے خلاف کام کرے‘۔ |