BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق، کنٹرول نئے جنرل کے حوالے
جنرل ڈیوڈ پیٹرس
جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے حالات بہتر کرنے میں اہم کردار اد کیا ہے
بغداد میں امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس، جنہوں نے عراق کے حالات بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، باقاعدہ طور پر کنٹرول جنرل ریمنڈ اوڈیرنو کے حوالے کر دیا ہے۔

عراق کی کمان اب جنرل ریمنڈ کے ہاتھ میں ہوگی۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کمان کی اس منتقلی کے لیے بغداد میں ہیں۔

جنرل پیٹرئیس نے فروری دو ہزار سات میں عراق میں کمانڈ سنھبالی تھی۔ انہوں شورش پر قابو پانے کے لیے صدر بش کے ایک خاص منصوبے کو نافذ کیا تھا جس سے تشدد میں کافی حد تک کمی آئی۔

جنرل پیٹرئیس کے عہدے میں ترقی کر دی گئی ہے اور اب وہ مشرق وسطی، افغانستان اور ہارن آف افریقہ میں امریکی فوجوں کے انچارج کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالیں گے اور ان علاقوں میں فوجی آپریشنز کی قیادت کریں گے۔

ایک ایسے موقع پر جب وہ عراق کو الوداع کہہ رہے ہیں دیالہ صوبہ میں ایک خاتون خود کش بمبار کے حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سرجینٹ کا کہنا ہے عراق میں ایک بار تشدد میں پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریک کو عراق میں ابھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے

جنرل اوڈیرنو کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ ایسے وقت جب امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے وہ تشدد کو بڑھنے نا دیں۔

دو ہزار سات میں جب جنرل پیٹرئیس نے کمان سنبھالی تھی اس وقت زبردست تشدد کا ماحول تھا۔ شورش پر قابو پانے کے لیے ایک خاص منصوبے کے تحت تیس ہزار اضافی امریکی فوجیوں کو عراق میں تعینات کیا گیا تھا۔

اس حکمت عملی کی قیادت جنرل پیٹرئیس نے کی تھی جس سے تشدد کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی طور پر بھی کافی بہتری آئی ہے۔

اس بہتری کی ایک وجہ اگر شورش کی روک تھام کے لیے خاص منصوبہ تھا تو شیعہ گروپ کے ساتھ جنگ بندی اور سنی عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدے نے بھی اہم رول ادا کیا۔

جنرل پیٹرئیس نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس بات کو کبھی نہیں کہیں گے کہ عراق میں فتح حاصل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جو کامیابی ملی ہے اسے ضائع نہیں کیا جاسکتا اور عراق میں اب امریکہ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
خودکش حملے میں 25 ہلاک
26 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد