عراق دھماکوں میں پچاس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں حکام کے مطابق بغداد اور کرکک میں مختلف خود کش حملوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بغداد میں تین خود کش حملوں میں ہلاک شدگان کی تعداد 25 جبکہ زخمیوں کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ تمام حملے عورتوں نے کیے ہیں جن کا نشانہ وہ شیعہ افراد تھے جو ایک سالانہ مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے ایک مزار کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہسپتال اور سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں عورتیں اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ شیعہ تقریب کے اس موقع پر بغداد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ شیعوں کے بڑے بڑے اجتماع اکثر ایسے بم حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں جن کے لیے سنّی شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے۔ زائرین شمالی بغداد میں خادمیہ مزار کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ اتوار کے روز ایک بندوق بردار نے گولی مار کر سات زائرین کو ہلاک کر دیا تھا۔ شیعہ اس ہفتے اپنے ایک امام موسی کاظم کی شہادت کی تقریب منا رہے ہیں اور منگل کے روز اس کی اہم تقریب ہوگي۔ بغداد کے شمال میں کرکک میں کردوں کے ایک سیاسی مظاہرے میں ہونے والے دھماکے میں بائیس افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے۔ | اسی بارے میں امریکی حملے میں 8شہری ہلاک22 May, 2008 | آس پاس عراق: ’گیارہ پولیس ریکروٹ ہلاک‘20 May, 2008 | آس پاس بغداد: صدر سٹی میں پھر جھڑپیں13 May, 2008 | آس پاس برطانوی یرغمالی کی’خود کشی‘20 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||