BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 August, 2008, 08:04 GMT 13:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الصدر کا غیر مسلح گروہ کا اعلان
مقتدیٰ الصدر
مقتدی الصدری کی مہدی آرمی عراق کی سب سے با اثر قوت مانی جاتی ہے
عراق کی بااثر شیعہ تنظیم مہدی آرمی کے رہنما مقتدی الصدر نے تنظیم کے کلچرل ونگ یا ثقافتی شعبے اعلان کیا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق جمعے کے خطبے کے دوران ان کی طرف سے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ’مزاحمتی گروپ، مسلح رہے گا۔

مقتدی الصدر کے ترجمان شیخ عبیدی نے خبرساں ادارے رائٹرز سے کو بتایا ہے کہ ’اس فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ مہدی آرمی ختم ہو گئی ہے لیکن یہ مہدی آرمی کی تحلیل کی طرف ایک جزوی قدم ہے۔،

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقتدی الصدر کی آرمی اس وقت غیر مسلح ہوگی جب امریکی فوج عراق سے اپنے انخلاء کی تاریخ مقرر کر کے یہاں سے چلی جائے گی۔

اس وقت عراقی حکومت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان عراق میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے۔

عراق کی بااثر شیعہ تنظیم مہدی آرمی نے عراق سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق ہونے والی بات چیت کے نتائج تک مزاحمت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے مقتدیٰ الصدر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ جمعہ کے خطبہ میں اپنے حامیوں کو ہدایت کریں گے کہ وہ اسلحہ لے کر چلنے سے گریز کریں۔

بغداد میں بی بی سی کے کرسپن تھورلڈ نے شیعہ لیڈر کی اس حکمت عملی کا جائزہ لیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کی حامی جماعت کے لیے یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لیکن وہ امن کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

مقتدی الصدر کے ترجمان شیخ اوبیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک عراق میں امریکی فوجیوں کے قیام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مہدی ملیشیا کا کوئی رکن ہتھیاروں کے ساتھ نہیں چلے گا۔

مقتدیٰ الصدر کے ترجمان شیخ اوبیدی نے کہا ہے کہ جب امریکی فوجیوں کے عراق رہنے سے متعلق کوئی معاہدہ ہو جائے گا تو اس کے بعد ان کی جماعت اپنا ردعمل ظاہر کریں گے لیکن یہ واضح ہے کہ جب تک یہ مذاکرات جاری ہیں وہ امریکی قبضے کی خلاف مزاحمت نہیں کریں گے۔

عراق پر امریکی اور برطانوی حملے کے بعد مہدی ملیشیا عراق کی سب سے طاقتور ملیشیا کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن حالیہ مہینوں اس کو کافی دھچکے لگے ہیں۔

عراقی فوجیوں کے بصرہ اور دوسرے شہروں میں مقتدی الصدر کی حامی جماعت کے خلاف آپریشن میں مقتدی الصدر کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کی حیثیت پر کوئی بڑا سوال ابھی تک نہیں اٹھا ہے۔

حالیہ مہینوں میں کچھ شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق مقتدی الصدر اپنے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا بھی سوچ رہے ہیں۔

تیرہ جون کو کوفہ کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد مقتدیٰ الصدر کا ایک خط پڑھ کر سنایا گیا جس کے مطابق مہدی آرمی اب کئی حصوں میں بانٹی جائے گا اور غیر ملکی قبضے کے لیے مزاحمت ایک حصے کی ذمہ داری ہو گی۔

مہدی ملیشیا کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کو امریکی ماہرین مختلف زوایوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عراقی ملیشیا اب اپنے آپکو ایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے طریقے پر منظم کر رہی ہے جس کے مطابق تنظیم کے کچھ ممبران انتہائی تربیت یافتہ ہوں گے۔

تمام مبصرین اس بات متفق ہیں کہ مقتدی الصدر کی مہدی آرمی عراق میں ایک انتہائی اہم قوت ہے اور جب انہوں نے اگست دو ہزار سات میں فائر بندی کا اعلان کیا تھا تو اس کے بعد عراق میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد میں یک دم کمی واقع ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد