’امداد مقاصد حاصل کرنے میں ناکام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کے ارکان کو بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کو دی جانے والی کروڑوں ڈالر کی امداد اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پارہی ہے۔ سابق سفارت کاروں رچرڈ ہالبرک اور تھامس پِکرنگ نے کہا ہے کہ امدادی رقم کا ایک بڑا حصہ کنسلٹنگ فیس اور دیگر معمول کے اخراجات میں خرچ ہوئی اور امریکہ کی سرزمین سےگئی ہی نہیں۔ امریکی کانگریس یہ جاننا چاہتی ہے کہ امدادی رقم میں سی کتنی رقم ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی اڑا دی گئی۔ امریکی کی مدد فراہم کرنے والی سرکاری ایجنسی یو اس ایڈ( یونائیٹیڈ اسٹیٹ ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولمپنٹ) کا کہنا ہے امداد فراہم کرنے کے لیے دیگر معمول کے اخراجات صرف 30 فی صد ہے۔
یو ایس ایڈ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ امدادی رقم کو صحیح طریقہ سے خرچ کرنے اور دیگر اخراجات کو کم سے کم کرنے کے لیے مقامی ایجنسیوں اور کنسلنٹس کی خدمات لیے جانے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔ امریکہ کی خارجہ امور سے متعلق ایک کمیٹی کے سینئر اہلکار گیری ایکرمین کا کہنا ہے ’یہ عجیب بات ہے کہ ہمیں یہ بات جاننے میں کہ امدادی رقم وہیں خرچ ہونی چاہیے جہاں کے لیے اسے مخصوص کیا گیا ہے اتنا وقت اور کروڑوں ڈالر لگ کئے۔‘ یو ایس ایڈ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں کہ رقم جان بوجھ کر صحیح سے خرچ نہیں ہو پارہی ہے بلکہ اس کی بعض پریکٹیکل وجوہات ہیں اور افغانستان اور پاکستان میں مقامی ماہرین کی کمی کی سبب بھی زیادہ رقم یہاں خرچ کرنی پڑی ہے۔ یوایس ایڈ کے مارک وارڈ کا کہنا ہے ’اگر ہم 100 ملین ڈالر کے ایک تعمیری پروجیکٹ کو بولی لے کر افغانستان میں جائیں تو وہاں کوئی اتنی بڑی تعمیراتی فرم نہیں ہے جو اس پروجیکٹ کو لے سکے پاکستان میں ایک دو ایسی فرمیں ہیں۔ ‘ یو ایس ایڈ کے بارے میں ایک مستقل شکایت یہ ہے کہ امدادی رقم کا ایک بڑا حصہ جو ان ممالک میں اسکول اور اساتدہ کو تربیت کے لیے بھیجی جاتی ہے امریکہ اور برطانیہ میں اعلیٰ ماہرین کی فیس پر خرچ ہوتی ہے۔ مثال کے طور یوایس ایڈ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے(فاٹا) میں جو سکول کھولے گئے تھے وہ زلزلے کے اثر سے محفوظ ہونے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔
مسٹر وارڈ کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ماہرین کی صلاح چاہیے اور اس میں کچھ رقم تو خرچ ہوگی۔ اس کے برعکس مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پہلے سے ایک ماڈل تیار ہے اور یہ کام مقامی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے وزارات داخلہ میں سابق تجزیہ کار، اور افغانستان میں یو ایس ایڈ کے ایک پروجیکٹ پر سابق کنسلٹنٹ مارون وینبام کا کہنا ہے کہ یو ایس ایڈ کی امدادی رقم کے خرچ کرنے کے طریقہ کار پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی ہے لیکن اس کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ امریکہ جب تک یہ رقم کنٹریکٹرز اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے یہ رقم خرچ کرتی رہے گی تب تک امدادی رقم غلط جگہ خرچ ہوتی رہے گی۔ مسٹر وینبام کا کہنا ہے کہ مقامی کنٹریکٹرز بھی کام کرسکتے ہیں لیکن وہ یو ایس ایڈ کے سٹینڈرڈ کے لحاظ سے نہیں ہوتا ہے۔ انکا مزید کہنا ہے ’میں ایک ایسے معاملے کے بارے میں جانتا ہوں جہاں ایک امریکی کمپنی افغانستان میں اسکول بنانے کا کٹنریکٹ لیا تھا اور اس نے وہ اسکول کبھی نہیں بنوایا اور اسی کمپنی نے دوبارہ کنٹریکٹ لینے کے لیے بولی لگائی۔ ‘ یو ایس ایڈ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رقم کو صحیح طریقے سے خرچ کرنے کے لیے یہ کیا جاسکتا ہے کہ بڑے کنٹریکٹس کو چھوٹے کنٹریکٹس میں تبدیل کردیا جائے لیکن ایسا کرنے کے لیے زیادہ لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ | اسی بارے میں قرضوں کی قیمت میں مزید کمی 30 April, 2008 | آس پاس افغانستان اور خوراک کا بحران30 April, 2008 | آس پاس امدادی کارروائیوں میں مشکلات29 May, 2006 | آس پاس بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ04 June, 2007 | پاکستان متاثرینِ زلزلہ کا مظاہرہ03 June, 2007 | پاکستان پناہ گزین کیمپ میں کشیدگی16 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||