افغانستان اور خوراک کا بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں خوراک کا شدید بحران جو کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا ہے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس سے ملک مزید انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ فلیٹوں کے ایک بلاک کے احاطے میں ایک کچے چھپڑ تلے قمیر گل تندور کے اوپر جھکی ہوئی تھی اور تندور کے اندر جلنے والی لکڑیوں سے اٹھنے والے دھوئیں سے اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ نیلے برقعے اوڑھے دو عورتیں اس تندور کے پاس بیٹھیں قمیر کو مخصوص افغانی انداز کی بیضوی شکل کی موٹی موٹی روٹیاں تندور کے اندر لگاتے ہوئے دیکھ رہیں تھیں۔ قمیر ایک بیوہ ہے جس کا شوہر لڑائی میں مارا گیا تھا۔ کابل میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین ہیں جو قلیل معاوضے پر تندوروں پر کام کرتی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اس کا کام آدھا رہ گیا ہے۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں اضافے کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے قمیر نے کہا کہ اگر یہ ہی صورت حال ایک ماہ اور برقرار رہتی ہے تو ہر شخص حکومت کے خلاف ہو جائے گا۔ جنگ کے دنوں میں بھی کبھی قیمتوں میں اتنا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ کابل کی غلہ منڈی جہاں درآمد شدہ گندم کو ٹرکوں سے اتار کر گوداموں میں رکھا جاتا ہے صرف چند ہفتے قبل کے مقابلے میں ویران نظر آتی تھی۔
ایک آڑھتی محمد آصف نے بتایا کہ عام حالات میں یہاں گندم سے بھرے سو سے ڈیڑھ سو ٹرک روزانہ آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہاں روزانہ پانچ سے دس ٹرک آ رہے ہیں اور منڈی میں بہت ہی کم لوگ نظر آ رہے ہیں۔ آصف نے بتایا کہ پچاس کلو آٹے کی بوری اس سال کے شروع میں سات سو افغانی روپے میں فروخت ہو رہی تھی، چند ہفتوں قبل اس کی قیمت ساڑھے بارہ سو روپے ہو گئی تھی لیکن اس ہفتے یہ پہلی مرتبہ ڈھائی ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ اب ایک اوسط افغان گھرانے کے لیے ایک مہینے کا آٹا خریدنے کے لیے جتنی رقم درکار ہے وہ سرکاری ملازم کی ایک مہینے کی تنخواہ کے برابر ہے۔ دن بھر آٹے کی قیمتیں، ان خبروں کے ساتھ کے اتنے ٹرک فلاں جگہ سے آ رہے ہیں اور ایک سرکاری وفد گندم کی برآمد پر پابندی ختم کروانے کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے، بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہیں۔ افغانستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے گندم کی فراہمی کے لیے کلی طور پر پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی سطح پر خوراک کے بحران کے ساتھ گندم کی برآمدات روک دی گئی ہیں اور حتی کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر خچروں کے ذریعے لائی جانے والی گندم بھی بند ہو گئی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے ملک کے مشرقی حصہ میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع جلال آباد کے شہر میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ پاکستان سے آٹا اور گندم لانے والے ٹرک جلال آباد سے گزر کر ملک کے دوسرے حصوں میں جاتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں آٹے کی قیمت ملک کے دوسرے حصوں سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے خوارک کے عالمی پروگرام کے ڈائریکٹر ٹونی بینبری کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کرتا ہے لیکن ملک میں گندم اور آٹے کی قلت کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بنا پر حکومت نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مارکٹیں اور سڑکیں نہیں ہیں اور ملک کے دور دراز علاقوں تک خوراک پہنچانا بہت مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بہت غریب ہیں اس لیے خوراک کی قلت کی وجہ سے جو مشکلات دوسرے ملکوں میں پیش آ رہی ہیں وہ یہاں اور زیادہ سنگیں نوعیت اختیار کر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کی حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے کہ وہ خوراک کے عالمی پروگرام اور افغان حکومت کو کئی لاکھ ٹن گندم فروخت کر دے تاکہ افغانستان میں بحران پر قابو پایا جا سکے لیکن پاکستان میں نئی حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال سے افغانستان میں جو پہلے سے مشکلات اور عدم استحکام کا شکار ہے شدید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ کابل شہر کے مغربی علاقے میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک کے ایک مرکز کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جن میں خواتین کی ایک کثیر تعداد شامل ہے آٹے کا تھیلا ملنے کی امید کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس صورت حال کا ذمہ دار حامد کرزئی کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورت حال چند اور ہفتے برقرار رہی تو ان کا اور ان کے اہلِ خانہ کا کیا بنے گا۔ افغانستان میں یہ انسانی المیہ ہی صرف پریشانی کا باعث نہیں۔ گلیوں اور سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں اور ملک کا ایک بڑا حصہ طالبان کے قصبے میں ہے۔ اس صورت حال میں ملکی حالات مزید ابتری کا شکار ہو تے جا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||