BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 April, 2008, 04:38 GMT 09:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاکھوں افراد کی فاقہ کشی کا خطرہ‘
ڈومینک کاہن
’معاشرتی بے چینی کسی تنازعہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے‘
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔

واشنگٹن میں ادارے کے اجلاس کے بعد آئی ایم ایف کے سربراہ ڈومینک سٹراؤس کاہن کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے معاشرتی بے چینی جنم لے رہی ہے جو کسی تنازعہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہیٹی، فلپائن اور مصر جیسے ممالک کے کچھ علاقوں میں فسادات بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور بین الاقوامی مالیاتی بحران کے بارے میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے بہت ضروری ہیں۔

سٹراؤس کاہن نے کہا کہ’ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہوں گے جس کے نتائج ان کی پوری زندگی پر پڑیں گے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مسئلہ تجارتی عدم توازن بھی پیدا کر سکتا ہے جس سے بالاخر ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے یہ صرف’انسانیت کا مسئلہ ہی نہیں ہے‘۔

حالیہ ماہ میں دنیا بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ طلب میں اضافہ، کچھ ممالک میں خراب موسم اور زیادہ زمین کا ٹرانسپورٹ ایندھن کے لیے اگائی جانے والی فصلوں میں استعمال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد