تین برس میں سب سے زیادہ مہنگائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں گزشتہ تین برس میں مہنگائی کی شرح سب سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے 22بائیس مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح سات فیصد تک پہنچ گئی جو 2004 سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے 15 مارچ کو ختم ہوئے ہفتے میں مہنگائی کی شرح 6.68 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی جو پچھلے 59 ہفتوں میں سب سے زیادہ تھی۔ افراط زر کی شرح میں اضافہ بنیادی طور پر کھانے کی اشیاء میں مہنگائی کے سبب ہو رہا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں اور چاول کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے کے تیل اور مکّئی کی درآمد پر عائد ڈیوٹی ہٹا دی ہے۔ مہنگائی حکومت کے لیے تشویشناک معاملہ تو ہے ہی لیکن یہ معاملہ مزید پریشانی کا سبب اس لیے بھی بن گیا ہے کیونکہ آئندہ مہینوں میں کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔
اقتصادیات کے ماہر ڈی کے جوشی کا کہنا ہے ’مہنگائی لوگوں کے اندیشوں سے اوپر جا چکی ہے اور مجھے حکومت کی جانب سے مزید سخت اقدامات کی توقع ہے‘۔ ان کا مزید کہناتھا ’ان حالات میں سود کی شرح میں کمی کی امید کو کچھ دنوں کے لیے بھولا جا سکتا ہے‘۔ چاول، گیہوں اور کھانے کی ديگر اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے سبب پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح ریکارڈ اونچائیاں چھو رہی ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح مختلف اندورنی اور بیرونی وجوہات سے بڑھ رہی ہے اور اسے فی الحال روکا نہیں جا سکتا ہے۔ سرکاری کی جانب سے مسلسل اقدامات کے باوجود مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق سرکار کی کوششوں کا اثر پڑے گا تو ضرور لیکن آئندہ کچھ ہفتوں تک مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں بھارت میں مہنگائی کی زبردست مار 28 March, 2008 | انڈیا بھارت میں افراط زر کا خدشہ 24 January, 2006 | انڈیا انڈیا اناج درآمد کرے گا22 June, 2006 | انڈیا کانگریس ’عوامی بجٹ‘ پیش کرے گی28 February, 2007 | انڈیا انڈیا: افراطِ زر میں ریکارڈ کمی 20 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||