BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہنگائی سے نمٹنے پر کابینہ اجلاس
فائل فوٹو
اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس سے حکومت بھی پریشان ہے
ہندوستان میں حکومت نے زبردست بڑھتی مہنگائی پر غور و فکر کے لیے کابینہ کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ اس وقت عام ضروریات کی چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس پر حکومت کو کافی تشویش ہے۔
قیمتوں سے متعلق میٹنگ کی صدارت وزیراعظم منموہن سنگھ کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز وزارت خزانہ کے سیکرٹری ڈی سبا راؤ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افراط زر کی شرحوں میں زبردست اضافے پر حکومت کو کافی تشویش ہے جس پر غور فکر کے لیے وزیر اعظم نے قیمتوں سے متعلق کابینہ کمیٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔

اس دوران صنعت وتجارت کے مرکزی وزیر کمل ناتھ نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا ہے کہ حکومت درآمدات پر ڈیوٹی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔’ اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی بازار میں مہنگائی کے سبب ہوا ہے، ہم کھانے پینے کی چیزیں خاص طور پر تیل پر درآمد ڈیوٹی کم کرنے یا پوری طرح ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں تیل، دالیں، پھل اور کھانے کے تیل کی قلت ہے جنہیں بیرونی ممالک سے لائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

 ہماری جماعت نے حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پندرہ اپریل تک کا وقت دیا ہے، پندرہ اپریل کے بعد بایں بازو کی جماعتیں قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ملک گیر مہم چلائیں گے
سیتا رام یچوری کمیونسٹ رہنما

ہندوستان میں فی الوقت افراط زر کی شرح 6.68 ہے جو کہ گزشتہ تیرہ ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔گزشتہ ایک ہفتے میں اناج، سبزیوں پھلوں اور بعض دواؤں کی قیمتیں تقریبا دوگنی ہوگئی ہیں۔

ادھر قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر شدید نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اس کے لیے حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔

حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے ضروری اشیاء کی قیتوں پر قابو پانے کے لیے حکومت سے فوری طور پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سی پی ایم رہنما سیتا رام یچوری نے کہا ہے’ ہماری جماعت نے حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پندرہ اپریل تک کا وقت دیا ہے، پندرہ اپریل کے بعد بایں بازو کی جماعتیں قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ملک گیر مہم چلائیں گے۔‘

ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے عام لوگ پریشان ہیں اور ایک ایسے وقت جب عام انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں حکومت کے لیے یہ مسئلہ ایک درد سر بن گیا ہے۔ لیکن فی الوقت حکومت بھی عالمی بازار کے اثرات سے بھارت کو بچانے سے قاصر دکھتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد