BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 18:26 GMT 23:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ترقی کا ہدف پورا نہیں ہو گا‘

روپے
افراط زر میں پچھلے مالی سال سے بھی زیادہ اضافے کا امکان ہے
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی ترقی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہنے کی توقع ہے اور اس کی اہم وجوہات موسم خریف کی فصلوں اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں کمی ہونا ہے۔

اس بات کی نشاندہی سٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کی رپورٹ میں کہی ہے جو پیر کو جاری کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں عام آدمی کے لیے بری خبر یہ ہے کہ مالی خسارے اور افراط زر میں اضافے کی وجہ سے نئی حکومت کے لئے مہنگائی پر قابو پانا فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

سٹیٹ بینک نے اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم خریف کی اہم فصلوں کپاس اور چاول کی پیداوار مقررہ ہدف سے کم رہی ہے جبکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں بھی کمی کا رجحان ہے۔

اس کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی یعنی گراس ڈومیسٹک گروتھ یا سادہ الفاظ میں ملکی پیداوار کی ترقی کی شرح کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا جو سات اعشاریہ دو فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

سٹیٹ بینک کے اندازے کے مطابق اب یہ شرح چھ سے چھ اعشاریہ پانچ فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ یہ ایک تشویشناک بات ہے۔’صنعت اور زراعت معیشت کے دو پیر ہوتے ہیں اور اگر یہ پیر کمزور ہیں تو باقی جسم کو آپ مضبوط نہیں کرسکتے۔ اور یہ بات ہم پچھلی حکومت کے دور میں بار بار کہتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ آنے والی حکومت کے لیے بھی یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نئی حکومت کو غیرترقیاتی اخراجات میں کمی لانا ہوگی اور صنعت اور زراعت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ دو شعبے مضبوط ہوں گے اور پائیدار طور پر اس کی ترقی ہوگی تو باقی شعبے بھی کام کرسکتے ہیں۔

سٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران افراط زر کا ہدف چھ اعشاریہ پانچ فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن یہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکے گا۔ بلکہ افراط زر میں پچھلے مالی سال سے بھی زیادہ اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے مالی سال کے دوران افراط زر سات اعشاریہ آٹھ فیصد رہی تھی جبکہ اس سال یہ آٹھ سے نو فیصد تک چلے جانے کا امکان ہے۔

قیصر بنگالی کے مطابق اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ ’یہ عام آدمی کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں بلکہ پریشان کن بات ہے۔ اس لیے کہ اگر افراط زر میں آٹھ سے نو فیصد تک اضافہ ہوا تو پھر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔ یہ بھی ایک خطرناک بات ہے اور اور آنے والی حکومت کے لیے ایک نشاندہی ہے کیونکہ غریب خاندانوں کے اخراجات کا ساٹھ سے اسی فیصد حصہ کھانے پینے کی اشیاء پر خرچ ہوتا ہے ۔‘

وسائل نہیں مسائل
 سٹیٹ بینک کی رپورٹ ایک اور بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جانے والی حکومت نئی حکومت کو وسائل کے بجائے مسائل منتقل کرکے جارہی ہے۔ اور ان مسائل کے حل کے لئے حکومتی اتحاد کو طویل المدت منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور زراعت اور صنعت کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
قیصر بنگالی

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ ایک اور بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ جانے والی حکومت نئی حکومت کو وسائل کے بجائے مسائل منتقل کرکے جارہی ہے۔ اور ان مسائل کے حل کے لیے حکومتی اتحاد کو طویل المدت منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور زراعت اور صنعت کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے آٹھ سالوں کے دوران پرویز مشرف کے پورے دور اقتدار میں معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں اس قسم کے نقائص پیدا ہوگئے ہیں جن کا فوری حل ممکن نہیں ہے۔

’پچھلی حکومت نے پائیدار معیشت کے لئے پالیسیاں نہیں بنائیں، مثلاً ہماری ترقی صارفین کی آمدنی کے بجائے قرضوں (کنزیومر کریڈٹ) کی بنیاد پر ہورہی تھی اور کنزیومر کریڈٹ کی وجہ سے ہی بینکنگ اور کار مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ترقی کی شرح بڑھ گئی اور ترقی کی اوسط رفتار بظاہر بڑھ گئی۔ لیکن بنیادی طور پر ایک پیر پر معیشت کو کھڑا کیا گیا تھا جو کنزیومر فنانسنگ تھی۔‘

انہوں نے پچھلے چند سالوں کے دوران پیدا ہونے والے چینی، آٹے اور کھانے پینے کی دوسری اشیاء کے بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بحرانوں کی بنیادی وجہ زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونا ہے جس کے باعث اس کی پیداواری صلاحیت بڑھنے کے بجائے کم ہوئی۔

’آپ دیکھیں کہ پچھلے چند سالوں میں ہر سال ایک بحران ہوتا تھا اور اب بھی ہم بحران سے گزر رہے ہیں۔ اس کا وقتی حل نکالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہمیں زرعی شعبے کی پیداواری قوت بڑھانے کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے تین چار سال بعد اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

بجلیبجلی کا شدید بحران
’شہر میں دس، دیہات میں15 گھنٹے بجلی بند‘
آٹے کے بحران ذمہ دار کون ہے؟
آٹے کے بحران پر سوال بے شمار، جواب ندارد
ذمہ دار کون ہے؟
آٹا بحران مصنوعی ہے کہ حقیقی
معیشتمعیشت اور بحران
’پاکستانی معیشت پر چندگروہوں کا قبضہ‘
معیشتسٹیٹ بینک رپورٹ
پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ
معروف جانترقی کی بھاری قیمت
صوبہ سرحد کے زمین مالکان کمپنیوں سے نالاں
اسی بارے میں
’آج کل گزارہ قرض پر ہے‘
18 January, 2008 | پاکستان
معیشت کو خطرہ: سٹیٹ بینک
06 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد