BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 January, 2008, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشن کارڈ پر عمل درآمد ناممکن

 آٹا فائل
یہ بات واضح نہیں کہ راشن کارڈ سکیم پرعمل کیسے ہوگا: قیصر بنگالی
نگراں حکومت نے ملک میں عام لوگوں کو آٹا، چینی، گھی اور دالیں وغیرہ سستے داموں فراہم کرنے کے لئے راشن کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے سے عام آدمی کو کوئی ریلیف مل پائے گا جو آٹے کے حالیہ بحران اور اس کے بعد گھی اور چاول جیسی بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے سے سخت پریشان ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ راشن کارڈ کے نظام کے ذریعے غریب لوگوں کو ریلیف تو مل سکتا ہے لیکن اسی صورت میں جب اس پر صحیح طریقے سے عملدرآمد ہو۔

ماہر معاشیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی صرف راشن کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب تک یہ بات واضح نہیں کہ اس پر عمل کیسے ہوگا۔

’اسکی کامیابی یا ناکامی کا تمام تر دار و مدار اس بات پر ہے کہ حکومت اس سکیم کو کس طرح چلائے گی۔ ماضی میں جو راشن کارڈ کی سکیم تھی اس میں یہ ہوتا تھا کہ راشن ڈپو والے ہی بلیک مارکیٹنگ کرتے تھے جیسے آج کل سپتالوں میں دوائی نہیں ملتی لیکن ہسپتال کے باہر موجود میڈیکل سٹور پر سرکاری دوائیں مل جاتی ہیں۔‘

قیصر بنگالی نے کہا کہ اگر حکومت راشن کارڈ سکیم کو عارضی بنیادوں پر چلائے گی تو یہ کامیاب نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے ایک طویل المدت اور وسیع نظام چاہیے۔

 سال ڈیڑھ سال پہلے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی اعلان کیا تھا ملک بھر میں یوٹیلٹی سٹورز کا ایک جال بچھایا جائے گا لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہوسکا۔
قیصر بنگالی

’حکومت کو اس سکیم کو مستقل نظام کے طور پر چلانا چاہیے اس لئے کہ غربت ختم نہیں ہونی ہے۔ چند مہینوں میں یا سالوں میں بھی اور اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔ افراط زر کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے تو غریب عوام کو ریلیف کی ضرورت رہے گی۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ راشن کارڈ کے ذریعے اشیائے خوردنی یوٹیلٹی سٹورز سے فراہم کی جائیں گی جبکہ یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد محدود ہے اور اسی بناء پر آٹے کے حالیہ بحران کے دوران حکومت کو خصوصی سٹالز بھی لگانے پڑے۔

قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو راشن کارڈ کا فائدہ پہنچانے کے لئے نہ صرف یوٹیلٹی سٹورز کی تعداد بڑھانا ہوگی بلکہ کچھ اور اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سارے یوٹیلٹی سٹورز امیر علاقوں میں ہیں جن کی عمارت کے کرائے کے اخراجات زیادہ ہیں۔ اس لئے حکومت کو ایسے سٹوروں کے بجائے کچی آبادیوں اور غریب محلوں اور چھوٹے شہروں میں کم لاگت سے مزید سٹورز کھولنے چاہییں تاکہ عام لوگوں کو اسکا فائدہ ہو۔

 چند ذخیرہ اندوزوں نے پورے ملک کو نچا کر رکھا ہوا ہے۔ حکومت انہی پر قابو کرلے تو راشن کارڈ کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
حاجی محمد قاسم

انہوں نے کہا کہ سال ڈیڑھ سال پہلے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی اعلان کیا تھا ملک بھر میں یوٹیلٹی سٹورز کا ایک جال بچھایا جائے گا لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہوسکا۔

باون سالہ حاجی محمد قاسم ماضی میں راشن کارڈ استعمال کرتے رہے ہیں۔ وہ ایک عام صارف کی حیثیت سے کہتے ہیں کہ راشن کارڈ کی سکیم سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

’جن یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے حکومت اس سکیم پر عملدرآمد کرنا چاہتی ہے ان سے پہلے ہی عام لوگوں کو کوئی خاص ریلیف نہیں مل رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چیزیں سستی ہی کرنا چاہتی ہے تو اجناس کی بیرون ملک سمگلنگ اور اندرون ملک ذخیرہ اندوزی کو روکے اور قیمتوں پر کنٹرول کرے۔

’چند ذخیرہ اندوزوں نے پورے ملک کو نچا کر رکھا ہوا ہے۔ حکومت انہی پر قابو کرلے تو راشن کارڈ کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔‘

ان تحفظات پر حکومت کیا کہتی ہے یہ جاننے کے لئے نگراں وفاقی وزیر خوراک پرنس عیسٰی جان اور سیکریٹری خوراک ضیاء الرحمان سے بار ہا رابطے کے باوجود بات نہیں ہوسکی۔

آٹے کا مسئلہ
آٹا دستیاب تو ہے مگر مہنگا بہت ہے
آٹا بحرانسندھ میں آٹا غائب
فلوز ملز پر رینجرز تعینات مگر آٹا دستیاب نہیں
کیا آپکو معلوم ہے؟
پاکستان میں آٹا سستا ہے یا صدر کو خبر نہیں
ذمہ دار کون ہے؟
آٹا بحران مصنوعی ہے کہ حقیقی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد