’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کئی ہفتوں سے جاری آٹے کے بحران کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کا دعوٰی ہے کہ صورتحال میں بہتری کے آثار ہیں لیکن بحران کے مکمل خاتمے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔ کمیٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ آٹا کی ’مصنوعی‘ قلت پر قابو پانے کے لیے اقدامات سے صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے لیکن مکمل بحران کے خاتمے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے سکیورٹی فورسز کی مدد دینے کے علاوہ فلور ملوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دیتے ہوئے انہیں دن میں انیس گھنٹے مسلسل بجلی کی فراہمی کا حکم بھی دیا ہے۔ جنرل فاروق نے جو دو ہزار پانچ کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی بھی کر چکے ہیں بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 40 ہزار ٹن آٹا فراہم کیا جا رہا ہے جو ملکی آبادی کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت 16 لاکھ ٹن سے زائد گندم موجود ہے اور 2لاکھ 14 ہزار ٹن گندم برآمد کی جا چکی ہے جبکہ جنوری کے اختتام تک مزید 2لاکھ 42 ہزار ٹن گندم پاکستان پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح ملک میں اپریل تک کی ضروریات کیلئے گندم کے ذخائر موجود ہوں نگے اورضرورت پڑنے پر مزید پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو فراہم کی جانے والی گندم کا کوٹہ 31 ہزار ٹن یومیہ سے بڑھا کر 38700 ٹن کیا جا رہا ہے جبکہ یوٹیلٹی سٹورز کا کوٹہ تین ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزارٹن کیا گیا ہے۔ فاروق احمد نے بتایا کہ محرم الحرام کی تعطیلات میں آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے دس محرم الحرام کا کوٹہ آٹھ محرم کو جاری کر دیا جائے گا تاکہ تعطیلات کے دوران آٹے کی فراہمی کا عمل متاثر نہ ہو۔
حکومت نے ملک بھر میں گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر نظر رکھنے اور اسے باقاعدہ بنانے کے لیے پانچ ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی مدد بھی حاصل کی ہے اور فلور ملوں کوگندم کی فراہمی بھی بتیس سے بڑھا کر اڑتیس ہزار پانچ سو ٹن یومیہ کر دی گئی ہے۔ لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان میں آٹے، گندم کے بحران نے سر اٹھایا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ یہ بحران آتا ہے، لوگوں کو رلاتا ہے، بھگاتا ہے اور ایک بظاہر سوئی ہوئی حکومت کو جھنجوڑ کر بالاخر ایک مختصر مدت کے لیے چلا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ آٹے کا بحران ماضی کی نسبت کوئی زیادہ ہی طول پکڑ گیا ہے اور اگر فی الفور اقدامات نہ کیے گئے تو انیس سو ستانوے جیسا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر برس ماہ رمضان سے قبل تو آٹے کی کمی دیکھی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ اس کے بعد بھی یہ بحران کم و بیشں برقرار رہا اور ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہنگاموں سے اس نے ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر لی جو اب بھی جاری ہے۔ حکومت پہلے روز سے کہہ رہی ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں بلکہ 1.8 ملین ٹن گندم کا سٹاک موجود ہے۔ اصل جو مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ اس کی طلب و رسد میں فرق سے پیدا ہوا ہے۔ حکومت اس کی ذمہ داری ہنگاموں میں ٹرکوں کے لٹنے اور راستوں کے بند ہونے پر ڈالتی ہے۔ وفاقی خوراک کمیٹی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) فاروق احمد خان نے بھی پیر کو ایک اخباری کانفرنس میں اقرار کیا کہ آٹا قلت بعض انتظامی امور کے باعث پیدا ہوئی۔ لیکن انہوں نے اس پر مزید روشنی نہیں ڈالی۔
بحران کے اکثر متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت کیوں نہیں جاگتی جب بحران اپنی ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں ایک یوٹیلیٹی سٹور کے باہر لمبی قطار میں آٹے کے بیس کلو کے تھیلے کی آس میں کھڑے ایک شخص عبدالغفور شکایت کرتے ہیں کہ حکومت اس وقت کہاں ہوتی ہے جس وقت بحران شروع ہوتا ہے۔ ’آخر یہ مسئلہ حل کرنے سے قبل بات اتنی بڑھنے کیوں دیتے ہیں؟ ہماری جان ان قطاروں سے کب چھوٹے گی؟‘ لیکن کئی لوگ حکومت کو گزشتہ برس گندم کی بمپر فصل کے نتیجے میں دس لاکھ ٹن گندم کو فاضل قرار دیتے ہوئے برآمد کرنے کو بھی ایک غلطی قرار دیتے ہیں۔ افغانستان کو گندم کی غیرقانونی ترسیل صورتحال میں مزید ابتری پیدا کر رہی ہے۔ جنرل فاروق نے بتایا کہ چند روز قبل بلوچستان سے افغانستان لیجانے والی ایک لاکھ اسی ہزار کلوگرام گندم پہلے ہی یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے تقسیم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی سرحد پر پکڑے جانے والے انتالیس ٹرک بھی اس کا حصہ ہیں۔ سرحد پار سمگلنگ تو شاید ایک وجہ ہو بار بار اس بحران کے پیدا ہونے کی۔ دیگر وجوہات میں ذخیرہ اندوزی اور افراتفری اور خوف کے عالم میں زیادہ خریداری بھی رسد کم کر دیتی ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں عام طور پر آٹا مل نہیں رہا اور کہیں اگر نظر بھی آ جائے تو فی کلو بیس سے پچیس روپے میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقات بہت پریشان ہیں۔ حکام کے مطابق عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے بازار میں بھی گندم کی قیمت فی چالیس کلوگرام سات سو روپے ہوگئی ہے لیکن حکومت آٹے کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے فلور ملز کو چار سو پیسنٹھ روپے میں فی من گندم فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک تو دنیا بھر میں گندم مہنگی ہونے اور پاکستان میں سستی ہونے کی وجہ سے برآمد اور سمگل ہو رہی تھی اور دوسرا ملک میں نجی مارکیٹ کے نرخوں سے سرکاری نرخ ڈھائی سو روپے کم ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ برس گندم کی پیداوار دو کروڑ تینتیس لاکھ ٹن ہوئی اور تقریباً چار لاکھ ٹن سٹاک پچھلے سال کا تھا۔ یوں اس برس کل دو کروڑ سینتیس لاکھ ٹن کا سٹاک تھا۔ ان کا اس سوال کے جواب میں کہ بحران کب ختم ہوگا کہنا تھا: ’آپ کیا توقع کرتے ہیں چھتیس گھنٹوں میں کیا ہوسکتا ہے؟ یہ عمل جو ہم نے شروع کیا ہے وقت لے گا۔ تاہم اس کا آغاز ہوگیا ہے‘۔ لیکن اس سوال کا جواب شاید ان کے پاس بھی نہ ہوگا کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے بعد عوام کو کب تک وقتی آرام ملے گا اور کب انہیں دوبارہ قطاروں میں لگنا ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||