BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 January, 2008, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹے کی قیمت: نیب میں ریفرنس دائر

پاکستان میں اس وقت آٹے اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے
پاکستان میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون نےگندم کی خرید و فروخت میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سابق حکمران جماعت کے عہدیداروں اور سابق وزیراعظم کے خلاف الیکشن کمشنر اور قومی احستاب بیورو میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔

اس بات کا اعلان پیر کے روز مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق نے اپنی جماعت کےمیڈیا سیل کے دیگر اراکین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے گندم سکینڈل میں بے ضابطگیوں کا الزام سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی، سابق وفاقی وزیر خوراک و زراعت سکندر بوسن اور سابق مرکزی وزیر صنعت جہانگیر ترین پر عائد کیا ہے۔

مسلم لیگ کے ترجمان نے کہا کہ یہ تمام افراد مبینہ طور پرگندم سکینڈل میں ملوث ہیں اور اور ان کی وجہ سے ایک طرف ملک وعوام کو چوراسی ارب روپےکا نقصان ہوا تو دوسری طرف وفاق کو نقصان پہنچا اور عوام احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہوئے۔

صدیق الفاروق نے کہا کہ عوام سے مبینہ طور پر لوٹی گئی یہی رقم اب مذکورہ افراد اپنی بے جاانتخابی پبلسٹی اور دیگر غیر قانونی انتخابی ہتھکنڈوں میں استعمال کر رہے ہیں جو الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں، ان سے لوٹی ہوئی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں ڈالی جائے، الیکشن کمیشن ان کی نااہلی کے احکامات جاری کرے جبکہ سابق وزیر اعظم کی پاکستان واپسی کے لیے انٹرپول سے رابط کیا جائے۔

صدیق الفاروق نے کہا کہ ریفرنس میں انہوں نے الیکشن کمیشن اور نیب کی توجہ سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے حالیہ اخباری انٹرویو کی طرف دلائی ہے جس میں انہوں نے گندم سکینڈل کے لیے سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور بعد میں ایک دوسرے انٹرویو میں سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین نے پرویز الہی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔

واضح رہے کہ پنجاب کے سابق وزیراعلٰی چوہدری پرویز الٰہی نے ہفتہ کو انگریزی روزنامے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق حکومت کی غلط پالیسیاں اور موجودہ نگران حکومت کی بے انتظامی در اصل آٹے کے بحران کی ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سابق وزیر برائے صنعت جہانگیر ترین کی منصوبہ بندی بھی ناقص تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے جہانگیر ترین نے محض دو سو ڈالر فی ٹن کے حساب سے گندم کی برامد کی اجازت دی اور پھر چار سو پچاس ڈالر کے حساب سے درامدی ٹینڈر جاری کیے۔

چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں سابق وفاقی حکومت کو خط بھی لکھے مگر جہانگیر ترین نے اقتصادی رابط کونسل کے اجلاس میں ان کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے چھ لاکھ ٹن گندم درامد کرنے کی اجازت دے دی۔

انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے انہی کے کہنے پر آٹے کی سمگلنگ روکنے کے لیے افغانستان کے ساتھ بارڈر سیل کیا تھا لیکن معروضی حالات کی وجہ سے یہ بارڈر دوبارہ کھولنا پڑا۔ چودھری پرویز الٰہی نے باقی صوبوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ آٹے کے بحران کے دوران اپنے حصے کی گندم پر گزارا کرنے کی بجائے پنجاب سے سستا آٹا منگواتے رہے۔

اسی طرح انہوں نے ملک میں جاری بجلی کے بحران کا ذمہ دار بھی شوکت عزیز کی حکومت کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بحران بروقت نجی شعبے میں نئے پراجیکٹ نہ لگانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔

اخبار کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سابقہ حکومت کے کس شخص کو بجلی کے بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے کوئی نام لینے سے انکار کر دیا کہ ذمہ دار شخص کا نام لینا مناسب نہیں کیونکہ وہ تو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکا ہے۔

جہانگیر ترین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کنفیوزڈ ہیں یا وہ سیاسی چال چل رہے ہیں کیونکہ وہ تو صنعت کے وزیر تھے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی بہت غلط باتیں کر رہے ہیں کیونکہ یہ فیصلے ان کی محکمہ خوراک فیڈرل حکومت کے ساتھ مل کر کرتی تھی اور ان کا ذرا بھی عمل دخل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلکہ پرویز الٰہی الٹا کہہ رہے ہیں۔ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے شیخ رشید نے مل کر یہ ایکسپورٹ بند کرائی تھی۔ ہم تو ای سی سی کی میٹنگ میں اپنا نکتۂ نظر پیش کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ چوہدری صاحب مرضی کے مالک ہیں اور بالکل غلط باتیں کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں
کاغذ کی قیمتوں میں اضافہ
21 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد