کراچی میں روٹی کی قیمت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں آٹے اور اُس کی مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث غریب عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کراچی کے بعض ہوٹلوں نے روٹی کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد بعض ہوٹلوں میں فی روٹی چار روپے جبکہ بعض میں اس کی قیمت پانچ روپے تک وصول کی جارہی ہے۔ بریانی کی فروخت کے حوالے سے مشہور صدر کے ایک ہوٹل نے پیر کے روز روٹی کی قیمت اچانک ایک روپے بڑھادی جس کی وجہ ہوٹل کی انتظامیہ نے یہ بیان کی ہے کہ آٹے کی بوری نو سو روپے سے بڑھ کر تیرہ سو روپے ہوگئی ہے۔ روٹی خریدنے کے لئے ہوٹل آنے والے ایک نوجواں سرکاری ملازم نے کہا کہ ’ہم اُس ملک کے بدنصیب باشندے ہیں جو ایک زرعی ملک ہے جس میں گندم پیدا تو ہوتی ہے مگر برآمد کر دی جاتی ہے اور اُس ملک کے عوام ترس رہے ہیں۔‘ فیصل حسین کا کہنا تھا کہ جس تناسب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اُس کے مقابلے میں تنخواہیں اور مراعات نہیں بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے کو اُٹھانا پڑھ رہاہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے کے دوران آٹے کی قیمت میں ہونے والے اضافے پر نظر ڈالی گئی تو معلوم ہوا کہ اسی کلو آٹے کی ایک بوری کی قیمت میں تیس روپے کا اضافہ ہوا۔ جوڑیا بازار کے ایک تاجر نے بتایا کہ جولائی کی اٹھارہ تاریخ سے اگست کی چھ تاریخ تک آٹے کی ایک بوری کی قیمت میں تیس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ آخر آٹے کی قیمت میں اچانک یہ اضافہ ہوا کیسے ہوا، اس کی وجہ جاننے کے لئے بی بی سی نے رابطہ کیا جعفر کوڑیا سے جو پاکستان کی چند بڑی ہول سیل مارکیٹوں میں شمار کی جانے والی جوڑیا بازار کے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ رواں برس گندم کی مجموعی پیداوار سرکاری ریکارڑ کے مطابق بائیس ملین ٹن ہوئی تھی مگر کچھ دنوں پہلے معلوم ہوا کہ بیس لاکھ ٹن گندم غائب ہوگئی۔ گزشتہ برس یہ پیداوار اٹھائیس ملین ٹن تھی۔ جوڑیا بازار کے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والی اس گندم کا ریکارڑ نہ تو اسٹاکسٹ کے پاس ہے، نہ مارکیٹ میں اور نہ ہی کسانوں کے پاس ہے۔ جعفر کوڑیا کا کہنا ہے کہ یا توگندم کا یہ ذخیرہ غیرقانونی طریقے سے بیرونِ ملک اسمگل ہوگیا یا سرکاری اعداد و شمار میں مجموعی پیداوار غلط ظاہر کی گئی جبکہ دوسری جانب حکومت نے سات ملین ٹن گندم برآمد کردی ہے۔ جعفر کوڑیا نے کہا کہ ماہِ رمضان میں آٹے کی قیمت ملک بھر میں ایک روپے تک بڑھنے کا امکان ہے اور اس کی ابتدا کراچی کی ہول سیل مارکیٹ سے ہوگئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو گندم مہنگے داموں پر درآمد کرنی ہوگی۔ | اسی بارے میں پیٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ 30 September, 2005 | پاکستان پٹرول مہنگا، ٹرانسپورٹ احتجاج01 September, 2005 | پاکستان پاکستان: گیس قیمتوں میں اضافہ31 December, 2005 | پاکستان سندھ: گنے کے نرخ بڑھنے سے ملیں بند19 December, 2005 | پاکستان پرائس کنٹرول:لاہور سےمرغی غائب29 July, 2006 | پاکستان درہ: اسلحہ قیمتوں میں اضافہ 25 July, 2007 | پاکستان سونےکی درآمد میں کمی01 May, 2007 | پاکستان پاکستان: تیل کی قیمت میں کمی15 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||