BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 21:49 GMT 02:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں روٹی کی قیمت میں اضافہ

حکومت نے سات ملین ٹن گندم برآمد کردی ہے
کراچی میں آٹے اور اُس کی مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث غریب عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

کراچی کے بعض ہوٹلوں نے روٹی کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد بعض ہوٹلوں میں فی روٹی چار روپے جبکہ بعض میں اس کی قیمت پانچ روپے تک وصول کی جارہی ہے۔

بریانی کی فروخت کے حوالے سے مشہور صدر کے ایک ہوٹل نے پیر کے روز روٹی کی قیمت اچانک ایک روپے بڑھادی جس کی وجہ ہوٹل کی انتظامیہ نے یہ بیان کی ہے کہ آٹے کی بوری نو سو روپے سے بڑھ کر تیرہ سو روپے ہوگئی ہے۔

روٹی خریدنے کے لئے ہوٹل آنے والے ایک نوجواں سرکاری ملازم نے کہا کہ ’ہم اُس ملک کے بدنصیب باشندے ہیں جو ایک زرعی ملک ہے جس میں گندم پیدا تو ہوتی ہے مگر برآمد کر دی جاتی ہے اور اُس ملک کے عوام ترس رہے ہیں۔‘

 بریانی کی فروخت کے حوالے سے مشہور صدر کے ایک ہوٹل نے پیر کے روز روٹی کی قیمت اچانک ایک روپے بڑھادی جس کی وجہ ہوٹل کی انتظامیہ نے یہ بیان کی ہے کہ آٹے کی بوری نو سو روپے سے بڑھ کر تیرہ سو روپے ہوگئی ہے۔
ایک پرائیویٹ ملازم نے مہنگائی کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پرائیس کنٹرول کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے جس کا جی جاہتا ہے قیمتوں کو بڑھا دیتا ہے اور کوئی اُنہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔

فیصل حسین کا کہنا تھا کہ جس تناسب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اُس کے مقابلے میں تنخواہیں اور مراعات نہیں بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے کو اُٹھانا پڑھ رہاہے۔

ایک ماہ سے کم عرصے کے دوران آٹے کی قیمت میں ہونے والے اضافے پر نظر ڈالی گئی تو معلوم ہوا کہ اسی کلو آٹے کی ایک بوری کی قیمت میں تیس روپے کا اضافہ ہوا۔ جوڑیا بازار کے ایک تاجر نے بتایا کہ جولائی کی اٹھارہ تاریخ سے اگست کی چھ تاریخ تک آٹے کی ایک بوری کی قیمت میں تیس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

آخر آٹے کی قیمت میں اچانک یہ اضافہ ہوا کیسے ہوا، اس کی وجہ جاننے کے لئے بی بی سی نے رابطہ کیا جعفر کوڑیا سے جو پاکستان کی چند بڑی ہول سیل مارکیٹوں میں شمار کی جانے والی جوڑیا بازار کے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔

ماہِ رمضان میں آٹے کی قیمت ملک بھر میں ایک روپے تک بڑھنے کا امکان ہے اور اس کی ابتدا کراچی کی ہول سیل مارکیٹ سے ہوگئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو گندم مہنگے داموں پر درآمد کرنی ہوگی۔
جعفر کوڑیا نے انکشاف کیا کہ ملک کی مجموعی پیداوار کی تقریبا دس فیصد گندم غائب ہوگئی جس کی تلاش جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ رواں برس گندم کی مجموعی پیداوار سرکاری ریکارڑ کے مطابق بائیس ملین ٹن ہوئی تھی مگر کچھ دنوں پہلے معلوم ہوا کہ بیس لاکھ ٹن گندم غائب ہوگئی۔ گزشتہ برس یہ پیداوار اٹھائیس ملین ٹن تھی۔

جوڑیا بازار کے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والی اس گندم کا ریکارڑ نہ تو اسٹاکسٹ کے پاس ہے، نہ مارکیٹ میں اور نہ ہی کسانوں کے پاس ہے۔

جعفر کوڑیا کا کہنا ہے کہ یا توگندم کا یہ ذخیرہ غیرقانونی طریقے سے بیرونِ ملک اسمگل ہوگیا یا سرکاری اعداد و شمار میں مجموعی پیداوار غلط ظاہر کی گئی جبکہ دوسری جانب حکومت نے سات ملین ٹن گندم برآمد کردی ہے۔

جعفر کوڑیا نے کہا کہ ماہِ رمضان میں آٹے کی قیمت ملک بھر میں ایک روپے تک بڑھنے کا امکان ہے اور اس کی ابتدا کراچی کی ہول سیل مارکیٹ سے ہوگئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو گندم مہنگے داموں پر درآمد کرنی ہوگی۔

اسی بارے میں
سونےکی درآمد میں کمی
01 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد