پرائس کنٹرول:لاہور سےمرغی غائب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند دنوں سے لاہور کے بازاروں سے مرغی کی دستیابی بہت کم ہوگئی ہے۔ شہر کی اکثر دکانوں پر ولایتی مرغی دستیاب نہیں ہے اور جہاں ہے وہاں خریداروں کا ہجوم دیکھنے میں آتا ہے۔ لاہور کے مشہور پرچون بازار ٹولنٹن مارکیٹ میں ایک دکاندار مقصود اللہ کا کہنا ہے کہ ان دنوں ولایتی مرغی کا گوشت زندہ تقریبا ایک سو روپے کلو جبکہ گوشت ایک سو پینتیس سے ایک سو چالیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت ہورہا ہے لیکن اب مرغی کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔ شہر میں ریسٹورنٹ والوں کا کہنا ہے کہ انہیں مرغی کا گوشت بیوپاریوں سے ایک سو چالیس روپے سے ایک سو ساٹھ روپے فی کلو کے حساب سے خریدنا مرغی کی کمی اس وقت شروع ہوئی جب چند روز پہلے لاہور کی ضلعی حکومت نے یہ پابندی لگا دی کہ دکاندار پرچون میں ولایتی مرغی کا گوشت ایک سو دس روپے فی کلو اور زندہ پینسٹھ روپے فی کلوگرام سے زیادہ قیمت پر نہیں بیچیں گے۔ دکانداروں کے مطابق حال ہی میں مقرر کیے گئے مجسٹریٹوں نے دکانداروں کو زیادہ قیمت پر مرغی فروخت کرنے پر جرمانے کرنا شروع کردیے ہیں۔ پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق لاہور میں روزانہ چھ سے سات لاکھ کلوگرام زندہ مرغی فروخت ہوتی ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر رضا محمود کا کہنا ہے کہ لاہور کی ضلعی حکومت نے کم نرخ پر مرغی بیچنے کے لیے جو مہم چلائی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ بیوپاریوں نے لاہور میں مرغی لانا بند کردیا ہے۔ ایسوشی ایشن کے مطابق لاہور کے اپنے پولٹری فارم صرف آدھی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ باقی مرغی شیخوپورہ، قصور اور اوکاڑہ سے آتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کی وجہ سے مرغی کی صنعت تین چار ماہ شدید نقصان کا شکار رہی۔ چند ہفتہ پہلے تک مرغی کا گوشت طلب نہ ہونے کی وجہ سے ساٹھ روپے کلو فروخت ہوتا رہا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق مرغی کی طلب میں کمی کی وجہ سے ملک میں آدھے پولٹری فارم بند ہوگئے تھے اور لوگوں نے مرغی کا بیج بھی لینا بند کردیا جس سے اس کی پیداوار آدھی رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب چند ہفتوں سے لوگوں کا برڈ فلو کا ڈر کم ہوا اور انہوں نے مرغی کا گوشت معمول کے مطابق خریدنا شروع کردیا ہے۔ اس وجہ سے رسد کم اور طلب زیادہ ہونے سے مرغی کی قیمتیں دگنا ہوگئی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ جب مرغی کی صنعت نقصان برداشت کرتے ہوئے ساٹھ روپے کلو مرغی بیچ رہی تھی تو اس وقت تو حکومت نے صنعت کا نقصان پورا کرنے کے لیے قیمتیں مقرر نہیں کیں تو اب قیمت کیوں مقرر کی گئی ہے۔ دوسری طرف، لاہور میں ضلعی رابطہ افسر میاں محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ اگر لاہور میں مرغی کی کمی ہوئی تو حکومت دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرکے ضلع لاہور سے مرغی باہر لے جانے پر پابندی عائد کردے گی تاکہ شہر میں مرغی دستیاب رہے ۔ | اسی بارے میں کراچی کی مرغیاں بھی متاثر24 January, 2004 | پاکستان پاکستانی مرغی پابندیاں، پریشانیاں28 January, 2004 | پاکستان مرغی، قومی پرندہ08 February, 2004 | پاکستان پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان گھر کی دال مرغی برابر؟25 March, 2006 | پاکستان مرغی کی جگہ دلی کا ’بیف‘ 29 March, 2006 | پاکستان ’غیر ملکی وفود کے لیے مرغی نہیں‘28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||