گھر کی دال مرغی برابر؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھوٹی چھوٹی باتوں سے کہانی بنتی ہے اور بے پرکی اڑانے سے فسانہ۔ یہاں بات بے پر کی تو نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ مرغی کا ہے۔ لیکن پھر بھی اکبری منڈی لاہور کے خواجہ مجیب کے تجزیہ کو سامنے رکھیں تو یہ کہنا پڑیگا کہ برڈ فلو اور دال کی قیمتوں میں اضافے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر حال ہی میں دالوں کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کا تعلق براہ راست بین الاقوامی منڈیوں میں دالوں کی قیمت میں اضافے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے، اور یہ کسی حد تک بیجا بھی ہے، کہ لوگ مرغی کھا رہے ہیں اور وہ اس لذت سے فی الحال اپنے آپ کو محروم کیے ہوئے ہیں۔ وہ بھی دالوں کی قیمت میں کسی غیر معمولی اضافے کے بعد دال کو چھوڑ کر مرغی پر جھپٹ پڑیں گے۔ خواجہ صاحب کا انداز فلسفیانہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو آج بھی سبزی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے۔ حالانکہ ہم سب نے مل کر سبزی کے استعمال سے قطعی طور پر دستبردار ہو جانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ خواجہ مجیب کے الفاظ میں ’جہاں ہم سبزی اگاتے تھے وہاں آج ہم نے گھر بنا لیئے ہیں اور اب چھتوں پر تو ہم سبزہ لگانے سے رہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود سستی سبزی بازار میں موجوود ہے۔ خواجہ صاحب کی بات میں دم ہے۔ مگر گلیوں میں آواز لگا کر سبزی فروخت کرنے والا شخص شاید عام لوگوں کی نفسیات بہتر سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خاتونِ خانہ اپنے پسندیدہ پرندہ سے آج کل کس قدر خائف ہیں۔ اگر یہ اس بات سے فائدہ اٹھانے میں تامل کریگا تو سبزی فروشوں کی برادری میں اپنی ناک کٹوا لے گا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ جب بچے چاولوں میں اپنی مرغوب ’لیگ پیس‘ کو نہ پا کر شور مچائیں تو انہیں سبز خوش نما مٹروں سے بہلایا جا سکتا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہہ وہ مٹر چالیس روپے کلو فروخت کر رہا ہے اور لوگ صابر شاکر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’چلو چار سدہ اور ایبٹ آباد کا مرغ نہ سہی، ہری پور کے دانوں سے بھرے مٹر ہی سہی‘۔
حق بات یہ ہے کہ مرغی آخر مرغی ہے اور کم از کم ایسے لوگ جو بظاہر مرغی کے گوشت سے بظاہر خائف نظر آتے ہیں اکیلے میں چکن پیٹیز پر ہاتھ صاف کرنے میں کوئی عار یا ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے۔ گویا دیگر تمام گناہوں کی طرح اکیلے میں ’تناولِ ممنوعہ‘ ان کے نزدیک عین جائز ہے۔ اصل مسئلہ ہے گوشت سے ہماری محبت کا۔ فی الحال لوگ اس بات پر بھی خفا ہیں کہ بکرے کا گوشت کس خوشی میں تین سو روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ پچھلی بار جب قیمتوں کو آگ لگی تھی تو اس کا قصور وار مٹن کی برآمد کو ٹھہرایا گیا تھا۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ حکومت نے چند ایسے اقدامات کیے ہیں کہ جن کی بنیاد پر مٹن کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔ جاننے والے یہ جانتے ہیں کہ نہ ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی شاید ایسا ہو گا۔ گزشتہ سال یہ شنید ہوئی کہ چند بھارتی بکرے اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ پڑوسی پاکستانیوں کو انکا من پسند مٹن ارزاں قیمت پر دستیاب ہو جائے۔ سرحا پر فوٹوگرافروں کے ایک ہجوم نے اس دوستانہ بھارتی یلغار کا بڑے چاؤ سے استقبال کیا۔ کئی رپورٹوں اور متعدد تصاویر کی اشعت کے بعد بھی بازار میں مٹن کی قیمت میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ رانوں، پُٹھوں اور دستیوں کی تو بات الگ، غیر لحمی سینہ بھی سینہ تان کر کم مایہ گاہکوں کا منہ چڑھانے لگا۔ اب جبکہ مرغی، جو کہ مٹن کی ایک کم قیمت لحم البدل ہے، فلو کی شکایت کے بعد کس قدر پس منظر میں چلے گئی ہے، مٹن بے روک ٹوک نئی قیمتوں کی طرف رواں دواں ہے۔ شاید آپ یقین نہیں کریں گے مگر پچھلے دنوں میں ایک صاحب یہ کہتے سنے گئے کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ کہ کہیں یہ خبر چھپ جائے کہ بکروں کو ’برڈ فلو‘ ہو گیا ہے۔ بقول ان کے اس کے علاوہ کوئی صورت بہتری کی نظر نہیں آتی۔ |
اسی بارے میں بکرے، گائے کا گوشت مہنگا23 March, 2006 | پاکستان برڈ فلو کی تصدیق، کروڑوں کا نقصان 21 March, 2006 | پاکستان سرحد میں 25000 مرغیاں تلف28 February, 2006 | پاکستان ’وائرس سے پولٹری کا کاروبار مندا‘27 February, 2006 | پاکستان پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس 27 February, 2006 | پاکستان پاکستان میں پولٹری صنعت والے پریشان23 February, 2006 | پاکستان پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||