بکرے، گائے کا گوشت مہنگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جیسے جیسے برڈ فلو پر تشویش بڑھ رہی ہے، مرغی کے گوشت کی طلب کم ہورہی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ گائے اور بکرے کے گوشت کی کھپت اور قیمتوں میں اضافہ ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اب پورے پاکستان میں گوشت کی مجموعی طلب کا پچاس سے ساٹھ فیصد حصہ فارم کی مرغیوں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ پکانے کے لیے درکار نسبتاً کم وقت اور دیگر خصوصیات کی بناء پر مرغی کے گوشت کو زبردست مقبولیت حاصل رہی ہے۔ تاہم تین برس پہلے جب پہلی بار مرغبانی کی صنعت ایوئین فلو سے متاثر ہوئی تو مرغی کےگوشت کی قیمتوں میں راتوں رات غیرمعمولی کمی واقع ہوئی تھی۔ اس بار بھی برڈ فلو کے واقعات کی خبروں کے ساتھ ہی مرغی کے گوشت کے دام گرنے لگے اور اب زیادہ تر علاقوں میں مرغی کا گوشت چند ماہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً نصف داموں پر دستیاب ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینیٹر معروف صدیقی کے مطابق مرغی کے گوشت کے دام طلب اور رسد کے اصولوں پر کم یا زیادہ ہوتے رہے ہیں اور لامحالہ برڈ فلو کی خبروں سے مرغی کے گوشت کی قیمتیں نیچے گئی ہیں۔ تاہم برڈ فلو کے خوف اور مرغی سے پرہیز کا ایک نتیجہ گائے اور بکرے کے گوشت کی طلب اور قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس اضافے کی وجوہات بتاتے ہوئے پاکستان میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اقبال قریشی نے کہا کہ برڈ فلو سے پہلے ہی ملک میں گوشت کی قلت تھی اور اس کے بعد تو طلب میں بیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے فی کلو قیمتیں بھی پندرہ تا تیس روپے تک بڑھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوشت کی قلت کے باوجود افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اعلٰی ترین معیار کا گوشت ملک سے برآمد کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بھارت سے گھٹیا معیار کا بھینس کا گوشت منگایا جارہا ہے۔ گائے، بکرے اور مرغی کے گوشت کے مقابلے میں مچھلی کا استعمال پاکستان میں پہلے ہی سے بہت کم بتایا جاتا ہے جبکہ اس کی قیمتیں بھی زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود برڈ فلو بحران کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ نہ صرف مچھلی کی فروخت بڑھی ہے بلکہ قیمتیں بھی پندرہ فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ملک میں گوشت کی طلب اور رسد میں فرق دور کرنے کے لیے بظاہر کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی جس سے خدشہ ہے کہ برڈ فلو بحران بڑھنے کے ساتھ ساتھ گائےاور بکرے کے گوشت اور مچھلی کی قیمتوں میں بھی کہیں چینی جیسا بحران پیدا نہ ہوجائے۔ | اسی بارے میں ’وائرس سے پولٹری کا کاروبار مندا‘27 February, 2006 | پاکستان برڈ فلو کی تصدیق، کروڑوں کا نقصان 21 March, 2006 | پاکستان سرحد: برڈ فلوسے خاص فرق نہیں پڑا22 March, 2006 | پاکستان پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس 27 February, 2006 | پاکستان منگلا جھیل میں مردہ پرندے24 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||