سرحد: برڈ فلوسے خاص فرق نہیں پڑا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی جانب سے صوبہ سرحد کے دو مرغی فارموں میں برڈ فلو کی گزشتہ روز ہونے والی تصدیق کی خبر نے کوئی خاص تہلکہ نہیں مچایا۔ مرغی کے کاروبار سے منسلک جن افراد کا نقصان ہونا تھا وہ اب بھی ہو رہا ہے اور اس میں بیماری کی تصدیق سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ گزشتہ ماہ جب پہلی مرتبہ حکام کو شبہ ہوا کہ صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد اور چارسدہ کے دو پولٹری فارمز میں برڈ فلو موجود ہے تو اس خبر کے منظر عام پر آنے سے اس کاروبار سے منسلک افراد پر جو پہاڑ ٹوٹنا تھا ٹوٹ چکا۔ جس شخص نے مرغی اور انڈہ کھانے کا فیصلہ کیا وہ اب بھی اس پر قائم ہے اور جس نے اسے ترک کیا وہ اب بھی اس سے دور رہنے کی پوری پوری کوشش کر رہا ہے۔ جو درمیان میں کوئی فیصلہ کر نہیں پا رہے تھے ان کی تعداد شاید آج بھی اتنی ہی ہے جتنی پہلے روز تھی۔ پشاور کے عارف یوسف زئی کا کہنا تھا ’ہم نے تو پہلے روز ہی خبر سنتے ہی احتیاط کے طور پر مرغی کھانا بند کر دی تھی۔ آج تقریبا ایک ماہ بعد بھی ہم اپنے فیصلے پر قائم ہیں‘۔ پشاور میں ہر گلی بازار میں چھوٹی چھوٹی دوکانوں میں مرغیاں فروخت کرنے والے بھی ایک ماہ سے متاثر ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ ورسک روڈ پر ایک چھوٹے سے پنجرے میں درجن بھر مرغیوں کے ساتھ بیٹھے غلام نبی کا کہنا تھا: ’بس صاحب جو کمی پہلے آئی سو اب بھی قائم ہے۔ بس اپنا خرچہ بھی پورا نہیں کر پا رہے ہیں۔’ دوسری جانب شہر کی بڑی بڑی بیکریوں میں ایک ماہ قبل چکن سینڈوچ کی جگہ بیف اور ویجیٹیبل سینڈوچ نے مکمل طور پر لے لی تھی۔ حکومت اور پولٹری فارمز کی جانب سے ’سب اچھا ہے’ مہم کے نتیجے میں تھوڑے عرصے بعد چکن سینڈوچ دوبارہ ایک کونے میں دکھائی دینے لگا تھا لیکن کل سے وہ دوبارہ غائب ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بدستور ’الرٹ’ ہیں اور کسی دوسرے فارم سے اس بیماری کی کوئی اطلاع ابھی تک نہیں ملی ہے۔ صوبائی حکومت نے ہر ضلع میں فارموں پر نظر رکھنے کے لیئے خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔ ادھر اس کاروبار سے منسلک افراد کے برے دن ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ برڈ فلو وائرس کی موجودگی کی تصدیق سے ان کا دھندا مزید مندا رہنے کا امکان ہے۔ مرغی کی قیمت میں بیس سے پچیس روپے فی کلو جو گراوٹ آئی تھی اب بھی قائم ہے۔ خریداروں کا اعتماد بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ انہیں یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ بیماری صرف دو فارمز تک ہی محدود تھی اور مرغی کا کاروبار کرنے والے امید کر رہے ہیں کہ اعتماد کی بحالی میں ذیادہ دیر نہیں لگے گی۔ | اسی بارے میں برڈفلو: سوال وجواب15 October, 2005 | نیٹ سائنس ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس سرحد میں 25000 مرغیاں تلف28 February, 2006 | پاکستان برڈ فلو کی تصدیق، کروڑوں کا نقصان 21 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||